Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2845

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَفِی رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «حَتّٰى يَكْتَالَهٗ»

وفی رواية ابن عباس: «حتى يكتاله»

حدیث ترجمہ

اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں کہ اسے ماپ لے ۱؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

جو چیز ناپ تول سے خریدی جائے اس کا تولنا ناپنا مشتری کا قبضہ ہوتا ہے۔یکتالہلفظیستوفیہکی تفسیر ہے مگر جو چیز اندازًا فروخت و خرید کی جائے جیسے دانہ کے ڈھیر کی تجارت وہاں ناپ تول ضروری نہیں۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ غلے کی بیع جائز نہیں جب تک کہ تاجر خریدار دونوں کے وزن علیحدہ علیحدہ نہ ہوجائیں یعنی تاجر بھی تول لے اور خریدار الگ تول لے وہاں وہ صورت مراد ہے جہاں دو بیع جمع ہوں جیسے بیع سلم میں تاجرکسی سے غلہ خریدے اور سلم کے خریدار سے کہے کہ تو اس پر قبضہ کر تو اب ایک بار وہ تولے جس نے مسلم الیہ یعنی بائع کو غلہ دیا اور دوبارہ رب السلم یعنی خریدار تو لے،عام بیعوں میں صرف ایک تول ہی کافی ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا لہذا یہ حدیث اس دوبار تول کی حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2845