Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2863

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ بَيْعِ الكَالِئ بِالْكَالِئِ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

وعن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ. رواه الدارقطني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ادھار کی بیع ادھار سے کرنے سے منع فرمایا ۱؎(دارقطنی)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی بہت صورتیں ہیں:ایک تو یہ ہے کہ بیع کے وقت نہ قیمت دی جائے،نہ مبیع پر قبضہ ہو یہ ناجائز ہے،جواز بیع کے لیے کم سے کم ایک طرف فی الحال قبضہ ضروری ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ مثلًا زید کا عمرو پر دس گز کپڑا قرض تھا اور بکر کے عمرو پر دس روپے قرض تھے تو زید بکر سے کہے میں تیرے دس روپوں کے عوض اپنا وہ کپڑا فروخت کرتا ہوں جو میرا عمرو پر ہے،اب تم مجھ سے روپے نہ مانگنا بلکہ ان کے عوض عمرو سے کپڑا وصول کرلینا،بکر کہے مجھے قبول ہے یہ بیع ناجائز ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی کسی شخص سے کوئی چیز ادھار خرید لے جب اس ادھار کی مدت ختم ہو تو تاجر خریدار سے قیمت کا تقاضا کرے خریدار کہہ دے کہ فی الحال میرے پاس پیسے نہیں،مجھے ایک ماہ کی مہلت اور دے میں قیمت میں اتنا اضافہ کرتا ہوں،تاجر کہے منظور ہے حالانکہ اس چیز پر بھی قبضہ نہیں کیا گیا یہ بھی ممنوع ہے۔(لمعات واشعہ)خیال رہے کہکالی كَلَاءٌسے بنا بمعنی تاخیرو مہلت و حفاظت،رب فرماتاہے:"قُلْ مَنۡ یَّکْلَؤُکُمۡ بِالیۡلِ"۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2863