Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 909

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلٰى جِبْرَئِيلَ، السَّلَامُ عَلٰى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلٰى فُلَانٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ قَالَ: «لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَی اللهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّهٗ إِذَا قَالَ ذٰلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ اليْهِ فَيَدْعُوْهُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: كنا إذا صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم قلنا السلام علی الله قبل عباده، السلام على جبرئيل، السلام على ميكائيل، السلام على فلان، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم أقبل علينا بوجهه قال: «لا تقولوا السلام علی الله فإن الله هو السلام فإذا جلس أحدكم في الصلاة فليقل التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلی عباد الله الصالحين فإنه إذا قال ذلك أصاب كل عبد صالح في السماء والأرض أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من الدعاء أعجبه اليه فيدعوه»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۱؎تو کہتے تھے ۲؎الله کے بندوں کی طرف سے الله پر سلام ہو ۳؎جبریل علیہ السلام پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو ۴؎جب نبی صلی الله علیہ وسلم پھرے تو اپنے چہرے سے ہم پر متوجہ ہوئے ۵؎اور فرمایا نہ کہو کہ الله پر سلام ہو الله تو خود سلام ہے ۶؎جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے ۷؎کہ الله کے لیے تحیتیں،نمازیں اور طیب کلمے ہیں ۸؎اے نبی آپ پر سلام ہو الله کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۹؎ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو ۱۰؎نمازی جب یہ کہے گا تو زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گا ۱۱؎میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۱۲؎پھر جو دعا اسے پسند ہو اختیار کر لے اور اس سے دعا مانگے ۱۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اگر یہ واقعہ معراج سے پہلے کا ہے تب تو یہ مطلب ہوگا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے نماز پڑھتے تھے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ اس عبادت میں مشغول ہوتے تھے اور اپنے اجتہاد سے بجائےالتحیاتیہ پڑھا کرتے تھے، جب حضور معراج سے واپس ہوئے تب آپ نے اسالتحیاتکی تعلیم دی جو آگے آرہی ہے یعنی لوگو نماز تمہاری معراج ہے تو میں معراج میں رب سے جو گفتگو کرکے آیا تم بھی نماز میں وہ ہی کیا کرو اور اگر معراج کے بعد کا واقعہ ہے تو مطلب یہ ہے کہ اولًاالتحیاتکی تعلیم نہیں دی گئی تھی صحابہ اپنے اجتہاد سے کچھ کلمے کہہ لیا کرتے تھے، ایک روز نماز سے فارغ ہو کر اسالتحیاتکی تعلیم دی۔(مرقاۃ)-
۲
؎نماز کے دونوں قعدوں میں۔
۳
؎یعنی ہم بندے بارگاہ الٰہی میں نیاز مندانہ سلام پیش کرتے ہیں، وہ سمجھتے یہ تھے کہ جیسے بادشاہوں کے دربار میں سلام کرنا دربار کا ادب ہے ایسے ہی بارگاہِ الٰہی میں سلام پیش کرنا وہاں کا ادب ہے۔
۴
؎فلاں سے مراد باقی فرشتے ہیں یا خاص انبیائے کرام۔
۵
؎اِنْصَرَفَکے معنی یا یہ ہیں کہ آپ معراج سے واپس لوٹے تو ہم سب کے سامنے وعظ فرمایا یا یہ مطلب ہے کہ ایک دن نماز سے فارغ ہو کر یہ ارشاد فرمایا۔(ازمرقات)
۶
؎یعنی سلام ایک قسم کی دعا ہے یہ رب کے لائق نہیں، رب ہر عیب سے پاک، ہر آفت سے دور ہے اور سب کو سلامت رکھنے والا ہے اسی لیے ایک دعا میں فرمایا گیا "اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ" الہی تو سلامت رکھنے والا ہے۔
۷
؎لِیَقُلْصیغہ امر ہے اور امرو جوب کے لیئے آتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ نماز میںالتحیاتواجب ہے۔وَاِذَاجَلَسَکے عموم سے معلوم ہوا کہ نماز میں جب بھی بیٹھےالتحیاتپڑے خواہ امام کے تابع ہو کر بیٹھے یا خود اسے بیٹھنا ہو لہذا اگر کوئی امام کے ساتھ التحیات میں ملے اور اس کے بیٹھتے ہی امام کھڑا ہو جائے یا سلام پھیر دے توالتحیاتپوری کر کے کھڑا ہو لہذا یہ حدیث احناف کے بہت سے مسائل کا ماخذ ہے۔جبالتحیاتواجب ہوئی تو اس کے رہ جانے پر سجدۂ سہو واجب ہوا جیسا کہ واجبات نماز کا حکم ہے۔
۸
؎ان تین کلموں کی شرحیں بہت ہیں۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ تحیۃ سے مراد قولی عبادات ہیں، صلوات سے مراد بدنی عبادات اور طیبات سے مراد مالی عبادتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادتیں الله سے خاص ہیں چونکہ ان تینوں عبادتوں میں سے ہر ایک کی ہزار ہا قسمیں ہیں، نیز ہر شخص کی عبادت علیحدہ ہے اس لیے ان تینوں کو جمع فرمایا گیا۔ خیال رہے کہ تحیۃ کا لفظ جب بندے کے لیے استعمال ہوگا تو اس کے معنی ہوں گے ملاقات کے وقت کا کلام یا کام، یونہی صلوت بندوں کے لیے بمعنی رحمتیں ہوتا ہے جیسے:"اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ۹؎اس جگہ مرقات نے فرمایا کہ معراج کی رات اول تین کلمے حضور نے بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے پھراَلسَّلَامُ عَلِیْكَالخ رب کی طرف سے حضور کو خطاب ہوا پھراَلسَّلَامُ عَلِیْنَاالخ، حضور نے جوابًا عرض کیا پھراَشْہَدُالخ، جبریل امین نے عرض کیا، چونکہ نماز بھی مسلمان کی معراج ہے اس لیے اسی میں سارے کلمات جمع کر دیئے گئے۔ نیز شیخ نے اشعۃ اللمعات میں، امام غزالی نے احیاء اعلوم میں، ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا کہاَلسَّلَامُ عَلِیْكَپر ہر نمازی اپنے دل میں حضور کو حاضر جانے اور یہ جان کر سلام عرض کرے کہ میں حضور کو سلام کر رہا ہوں حضور مجھے جواب دے رہے ہیں۔ شیخ نے فرمایا کہ بعض عارفین کا ارشاد ہے کہ حقیقت محمدیہ تمام موجودات بلکہ ممکنات میں ساری و طاری ہے اس لیے نماز میں بھی موجود ہے لہذا خطاباَلسَّلَامُ عَلِیْكَنہایت موزوں ہے، یہی مضمون ا ہلِ حدیث کے پیشوا نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے بھی اپنی بعض کتب میں لکھا ہے۔ اس سے مسئلہ حاضر و ناظر بخوبی واضح ہوگیا کیونکہ غائب کو غافل کو اور جو جواب نہ دے اس کو سلام کرنا منع ہے۔ اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق" حصہ اول میں دیکھو۔
۱۰
؎یعنی زمین و آسمان میں غائب و حاضر، گزشتہ موجودہ، آئندہ سارے نیک بندوں پر سلام، چونکہ وہ سب بندے سن نہیں رہے ہیں ا س لیے یہاں خطاب نہیں ہوا۔ نیک بندہ وہ ہے جو حق عبودیت ادا کرے اور اس پر قائم رہے۔
۱۱
؎اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ دعا وغیرہ میں سارے مومنوں کو شامل کرنا چاہیے تواِنْ شَاءَاللّٰهُدعا ضرور قبول ہوگی۔ خیال رہے کہ یہاں گنہگار بندوں کا ذکر نہیں آیا کیونکہ وہعَلَیْنَاجمع کی ضمیر میں داخل کر لیے گئے۔ حضور اپنے گنہگاروں کو اپنے دامن میں رکھتے ہیں۔
۱۲
؎ظاہر یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بھیالتحیاتمیں شہادتیں یونہی ادا فرماتے تھے۔
۱۳
؎بہتر یہ ہے کہ اس موقعہ پر منقولی دعائیں خصوصًا جامع دعائیں مانگی جائیں جیسے "رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا" الخ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں درود ابراہیمی پڑھنا فرض نہیں یہی حنفیوں کا قول ہے اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 909