- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 909
باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 909
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلٰى جِبْرَئِيلَ، السَّلَامُ عَلٰى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلٰى فُلَانٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ قَالَ: «لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَی اللهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّهٗ إِذَا قَالَ ذٰلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ اليْهِ فَيَدْعُوْهُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عبد الله بن مسعود قال: كنا إذا صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم قلنا السلام علی الله قبل عباده، السلام على جبرئيل، السلام على ميكائيل، السلام على فلان، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم أقبل علينا بوجهه قال: «لا تقولوا السلام علی الله فإن الله هو السلام فإذا جلس أحدكم في الصلاة فليقل التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلی عباد الله الصالحين فإنه إذا قال ذلك أصاب كل عبد صالح في السماء والأرض أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من الدعاء أعجبه اليه فيدعوه»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۱؎تو کہتے تھے ۲؎الله کے بندوں کی طرف سے الله پر سلام ہو ۳؎جبریل علیہ السلام پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو ۴؎جب نبی صلی الله علیہ وسلم پھرے تو اپنے چہرے سے ہم پر متوجہ ہوئے ۵؎اور فرمایا نہ کہو کہ الله پر سلام ہو الله تو خود سلام ہے ۶؎جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے ۷؎کہ الله کے لیے تحیتیں،نمازیں اور طیب کلمے ہیں ۸؎اے نبی آپ پر سلام ہو الله کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۹؎ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو ۱۰؎نمازی جب یہ کہے گا تو زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گا ۱۱؎میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۱۲؎پھر جو دعا اسے پسند ہو اختیار کر لے اور اس سے دعا مانگے ۱۳؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎اگر یہ واقعہ معراج سے پہلے کا ہے تب تو یہ مطلب ہوگا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے نماز پڑھتے تھے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ اس عبادت میں مشغول ہوتے تھے اور اپنے اجتہاد سے بجائےالتحیاتیہ پڑھا کرتے تھے، جب حضور معراج سے واپس ہوئے تب آپ نے اسالتحیاتکی تعلیم دی جو آگے آرہی ہے یعنی لوگو نماز تمہاری معراج ہے تو میں معراج میں رب سے جو گفتگو کرکے آیا تم بھی نماز میں وہ ہی کیا کرو اور اگر معراج کے بعد کا واقعہ ہے تو مطلب یہ ہے کہ اولًاالتحیاتکی تعلیم نہیں دی گئی تھی صحابہ اپنے اجتہاد سے کچھ کلمے کہہ لیا کرتے تھے، ایک روز نماز سے فارغ ہو کر اسالتحیاتکی تعلیم دی۔(مرقاۃ)-
۲؎نماز کے دونوں قعدوں میں۔
۳؎یعنی ہم بندے بارگاہ الٰہی میں نیاز مندانہ سلام پیش کرتے ہیں، وہ سمجھتے یہ تھے کہ جیسے بادشاہوں کے دربار میں سلام کرنا دربار کا ادب ہے ایسے ہی بارگاہِ الٰہی میں سلام پیش کرنا وہاں کا ادب ہے۔
۴؎فلاں سے مراد باقی فرشتے ہیں یا خاص انبیائے کرام۔
۵؎اِنْصَرَفَکے معنی یا یہ ہیں کہ آپ معراج سے واپس لوٹے تو ہم سب کے سامنے وعظ فرمایا یا یہ مطلب ہے کہ ایک دن نماز سے فارغ ہو کر یہ ارشاد فرمایا۔(ازمرقات)
۶؎یعنی سلام ایک قسم کی دعا ہے یہ رب کے لائق نہیں، رب ہر عیب سے پاک، ہر آفت سے دور ہے اور سب کو سلامت رکھنے والا ہے اسی لیے ایک دعا میں فرمایا گیا "اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ" الہی تو سلامت رکھنے والا ہے۔
۷؎لِیَقُلْصیغہ امر ہے اور امرو جوب کے لیئے آتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ نماز میںالتحیاتواجب ہے۔وَاِذَاجَلَسَکے عموم سے معلوم ہوا کہ نماز میں جب بھی بیٹھےالتحیاتپڑے خواہ امام کے تابع ہو کر بیٹھے یا خود اسے بیٹھنا ہو لہذا اگر کوئی امام کے ساتھ التحیات میں ملے اور اس کے بیٹھتے ہی امام کھڑا ہو جائے یا سلام پھیر دے توالتحیاتپوری کر کے کھڑا ہو لہذا یہ حدیث احناف کے بہت سے مسائل کا ماخذ ہے۔جبالتحیاتواجب ہوئی تو اس کے رہ جانے پر سجدۂ سہو واجب ہوا جیسا کہ واجبات نماز کا حکم ہے۔
۸؎ان تین کلموں کی شرحیں بہت ہیں۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ تحیۃ سے مراد قولی عبادات ہیں، صلوات سے مراد بدنی عبادات اور طیبات سے مراد مالی عبادتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادتیں الله سے خاص ہیں چونکہ ان تینوں عبادتوں میں سے ہر ایک کی ہزار ہا قسمیں ہیں، نیز ہر شخص کی عبادت علیحدہ ہے اس لیے ان تینوں کو جمع فرمایا گیا۔ خیال رہے کہ تحیۃ کا لفظ جب بندے کے لیے استعمال ہوگا تو اس کے معنی ہوں گے ملاقات کے وقت کا کلام یا کام، یونہی صلوت بندوں کے لیے بمعنی رحمتیں ہوتا ہے جیسے:"اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ"۔۹؎اس جگہ مرقات نے فرمایا کہ معراج کی رات اول تین کلمے حضور نے بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے پھراَلسَّلَامُ عَلِیْكَالخ رب کی طرف سے حضور کو خطاب ہوا پھراَلسَّلَامُ عَلِیْنَاالخ، حضور نے جوابًا عرض کیا پھراَشْہَدُالخ، جبریل امین نے عرض کیا، چونکہ نماز بھی مسلمان کی معراج ہے اس لیے اسی میں سارے کلمات جمع کر دیئے گئے۔ نیز شیخ نے اشعۃ اللمعات میں، امام غزالی نے احیاء اعلوم میں، ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا کہاَلسَّلَامُ عَلِیْكَپر ہر نمازی اپنے دل میں حضور کو حاضر جانے اور یہ جان کر سلام عرض کرے کہ میں حضور کو سلام کر رہا ہوں حضور مجھے جواب دے رہے ہیں۔ شیخ نے فرمایا کہ بعض عارفین کا ارشاد ہے کہ حقیقت محمدیہ تمام موجودات بلکہ ممکنات میں ساری و طاری ہے اس لیے نماز میں بھی موجود ہے لہذا خطاباَلسَّلَامُ عَلِیْكَنہایت موزوں ہے، یہی مضمون ا ہلِ حدیث کے پیشوا نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے بھی اپنی بعض کتب میں لکھا ہے۔ اس سے مسئلہ حاضر و ناظر بخوبی واضح ہوگیا کیونکہ غائب کو غافل کو اور جو جواب نہ دے اس کو سلام کرنا منع ہے۔ اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق" حصہ اول میں دیکھو۔
۱۰؎یعنی زمین و آسمان میں غائب و حاضر، گزشتہ موجودہ، آئندہ سارے نیک بندوں پر سلام، چونکہ وہ سب بندے سن نہیں رہے ہیں ا س لیے یہاں خطاب نہیں ہوا۔ نیک بندہ وہ ہے جو حق عبودیت ادا کرے اور اس پر قائم رہے۔
۱۱؎اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ دعا وغیرہ میں سارے مومنوں کو شامل کرنا چاہیے تواِنْ شَاءَاللّٰهُدعا ضرور قبول ہوگی۔ خیال رہے کہ یہاں گنہگار بندوں کا ذکر نہیں آیا کیونکہ وہعَلَیْنَاجمع کی ضمیر میں داخل کر لیے گئے۔ حضور اپنے گنہگاروں کو اپنے دامن میں رکھتے ہیں۔
۱۲؎ظاہر یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بھیالتحیاتمیں شہادتیں یونہی ادا فرماتے تھے۔
۱۳؎بہتر یہ ہے کہ اس موقعہ پر منقولی دعائیں خصوصًا جامع دعائیں مانگی جائیں جیسے "رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا" الخ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں درود ابراہیمی پڑھنا فرض نہیں یہی حنفیوں کا قول ہے اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 909