Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 916

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «بِسْمِ اللهِ وَبِاللهِ التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ أَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

عن جابر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن: «بسم الله وبالله التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلی عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار» . رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ہم کوالتحیاتایسے سکھاتے تھے جیسے ہم کو قرآن کی سورت سکھاتے ۱؎الله کے نام سے اور الله سےتحیتیںپاک نمازیں الله کے لیے ہیں ۲؎اے نبی آپ پر سلام ہو ۳؎اور الله کی رحمت اس کی برکتیں ہوں ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد الله کے بندے و رسول ہیں ۴؎الله سے جنت مانگتا ہوں آگ سے رب کی پناہ (نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ یعنی جیسے قرآن کی ایک ایک آیت مختلف الفاظ اور مختلف قرأتوں سے سکھاتے ایسے ہی ہمیںالتحیاتمختلف الفاظ سے سکھاتے تھے۔ (مرقات) ا س سے معلوم ہوا کہ جیسے قرآن شریف کی سات قرأتیں متواتر ہیں اور باقی قرأتیں شاذ ایسے ہیالتحیاتکی مختلف عبارتیں ہیں جو مختلف صحابہ سے منقول ہیں اور جیسے اب قرآن شریف صرف ایک قرأت سے ہی پڑھنا چاہیے ورنہ فتنہ ہوگا ایسے ہی ابالتحیاتصرف ایک ہی عبارت سے پڑھنی چاہیئے۔
۲
؎نووی نےکتاب الاذکارمیں فرمایا کہالتحیاتمیںبسم اللهکی زیادتی صرف حضرت جابر کی اس روایت سے ہی ثابت ہے اور کسی روایت میں نہیں ہے حضرت جابر کی یہ حدیث صحیح نہیں۔
۳
؎التحیاتکی مختلف عبارتیں احادیث میں منقول ہیں لیکن ہر عبارت میں حضور کو خطاب کرکے حضور کو سلام کیا گیا ہے۔ مرقات نے فرمایا نماز میں حضور سے خطاب اور کلام حضور کی خصوصیت ہے اگر کسی اورکو غائبانہ یا حاضرانہ سلام کرے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو بحالت نماز حضور پکاریں تو اس پر واجب ہے کہ اسی حالت میں بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو جو حکم ملے اس کی تعمیل کرے اس کے باوجود نماز ہی میں ہوگا کہ جب انہیں سلام کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی تو ان سے بات کرنے ان کی خدمت کرنے سے بھی نہیں ٹوٹے گی۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "شان حبیب الرحمن"میں دیکھو۔
۴
؎اس میں تجدید ایمان ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا رہے بلکہ سوتے وقت توبہ کرکے تجدید ایمان کرکے سویا کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 916