Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 910

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلّٰهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَلَمْ أَجِدْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي الْجَمْعِ بَين الصَّحِيحَيْنِ: «سَلامٌ عَلَيْك» و «سَلامٌ عَلَيْنَا» بِغَيْرِ أَلْفٍ وَلَامٍ وَلَكِنْ رَوَاهُ صَاحِبُ الْجَامِع عَنْ التِّرْمِذِيْ

وعن عبد الله بن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن فكان يقول: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلی عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله » . رواه مسلم ولم أجد في الصحيحين ولا في الجمع بين الصحيحين: «سلام عليك» و «سلام علينا» بغير ألف ولام ولكن رواه صاحب الجامع عن الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلمالتحیاتایسے ہی سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۱؎فرماتے تھے کہ برکت والیتحیتیںاور طیب نمازیں الله کے لیئے ہیں اے نبی آپ پر سلام اور الله کی رحمتیں برکتیں ہوں، ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد الله کے رسول ہیں ۲؎(مسلم)میں نے صحیحین میں اور صحیحین کے جامع میںسلام علیكاورسلام علینابغیر الف لام کے نہ پایا لیکن اسے جامع والے نے ترمذی سے روایت کیا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسا اہتمام قرآن شریف کے سکھانے میں کرتے تھے ویسا ہیالتحیاتکے سکھانے میں بھی۔ اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ نماز میںالتحیاتواجب ہے۔
۲
؎یہ حضرت ابن عباس کیالتحیاتہے،امام شافعی نے اسی کو اختیا ر فرمایا امام ابوحنیفہ و امام احمد ابن حنبل اور اکثر صحابہ و تابعین نے حضرت ابن مسعود کیالتحیاتکو لیا جو پہلے گزر چکی، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ابن مسعود کیالتحیاتکی حدیث بہت صحیح ہے، مسند امام احمد ابن حنبل میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابن مسعود کو حکم دیا کہ اسالتحیاتکی سب کو تعلیم دو اور امام مالک کی التحیات وہ ہے جو سیدنا عمر فاروق سے مروی۔"اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ السَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَا النَّبِیُّ"الخ۔(اشعہ)
۳
؎یعنی صاحب مصابیح نے حضرت ابن عباس کیالتحیاتمیںسلامٌبغیر الف لام کے نقل کیا مگر ایسیالتحیاتسوا ترمذی کے اور کہیں نہیں لہذا یہ حدیث صاحب مصابیح کو پہلی فصل میں نہیں لانی چاہیے تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 910