Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 908

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰی عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُمْنٰى وَيَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُسْرٰى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهٖ السَّبَّابَةِ وَوَضَعَ إِبْهَامَهٗ عَلیٰ أُصْبُعِهِ الْوُسْطىٰ ويَلْقَمُ كَفَّهُ الْيُسْرٰى رُكْبَتَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الله بن الزبير قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قعد يدعو وضع يده اليمنی علی فخذه اليمنى ويده اليسرى علی فخذه اليسرى وأشار بأصبعه السبابة ووضع إبهامه علی أصبعه الوسطى ويلقم كفه اليسرى ركبته. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب بیٹھتے تو کلمہ پڑھتے ۱؎تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں ران پر رکھتے اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر۲؎اور اپنی کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا بیچ کی انگلی پر رکھتے ۳؎ اور بائیں ہتھیلی سے گھٹنا پکڑ لیتے ۴؎ (مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں دعا سے مراد کلمہ شہادت ہے جیسے حدیث شریف میں ہے کہ عرفہ کے دن بہترین دعا کلمہ طیبہ ہے یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم نماز میں جب بیٹھتے توالتحیاتپڑھتے اور اس میں کلمہ طیبہ پڑھتے۔خیال رہے کہ نماز میں جب بھی بیٹھنا پڑے تبالتحیاتپڑھے لہذا اگر کوئیالتحیاتمیں جماعت سے ملا اس کے ملتے ہی امام کھڑا ہوگیا تو یہ شخص پوریالتحیاتو رسولہتک پڑھ کر اٹھے،اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲
؎یہ پچھلی حدیث کی شرح ہے جس میں تھا کہ حضور قعدہ میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے تھے اس نے بتایا کہ ہاتھ رانوں پر رکھتے انگلیوں کے کنارے گھٹنوں پر۔
۳
؎یعنی انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ بنا کر اشارہ فرماتے جیسا ہم احناف کا عمل ہے۔
۴
؎اس طرح کہ بایاں گھٹنا بائیں ہتھیلی میں ایسے آجاتا ہے جیسے منہ میں لقمہ۔خیال رہے کہ حضور کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے اور پہلی حدیث کا عمل بیانالتحیاتکے لیے تھا یعنی دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر بچھا دینا بہتر ہے تاکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قبلہ رو رہیں اور بایاں گھٹنا بائیں ہاتھ سے پکڑ لینا جائز ہے لہذا نہ تو احادیث میں تعارض ہے اور نہ مسلمانوں کا عمل اس حدیث کے خلاف۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہ اشارہ صرف کلمہ شہادت پر تھا جو کلمہ ختم ہونے پر ختم ہوجاتا تھا اول سے ہاتھ بچھاہوتا پھر بعد میں بھی بچھادیا جاتا تاکہ انگلیاں متوجہ قبلہ رہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 908