Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 917

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهٖ وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهٗ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَهِيَ أَشَدُّ عَلَی الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ».يَعْنِي السَّبَّابَةَ. رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن نافع قال: كان عبد الله بن عمر إذا جلس في الصلاة وضع يديه علی ركبتيه وأشار بأصبعه وأتبعها بصره ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لهي أشد علی الشيطان من الحديد».يعني السبابة. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ عبد الله ابن عمر جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اپنی نگاہ اس پر لگاتے ۱؎پھر فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان پر لوہے سے زیادہ گراں ہے یعنی یہ انگلی ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ نماز کے قعدہ میں تین کام کرتے تھے: رانوں پر ہاتھ رکھنا اس طرح کہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں تک پہنچ جائیں، کلمہ شہادت کے وقت داہنے ہاتھ کی کلمے کی انگلی سے اشارہ کرنا، اشارے کے وقت نگاہ انگلی پر رکھنا اس کی توجہیں پہلے ہو چکی ہیں۔
۲
؎یعنی جیسے نیزہ بھالا لگنے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے اس سے زیادہ تکلیف شیطان کو اس اشارے سے ہوتی ہے اس کی برکت سے شیطان اسے بہکانے سے مایوس ہو جاتا ہے۔ خیال رہے کہ بعض حنفی بزرگوں نے اس اشارے کا انکار کیا ہے جیسے حضرت مجدد صاحب قدس سرہ مگر ان کے انکار کی وجہ صرف یہ ہو سکتی ہے کہ ان کو ان احادیث کی صحت نہ پہنچی ہو۔ حق یہ ہے کہ اشارہ سنت ہے اور ان بزرگوں پر کوئی اعتراض نہ کیا جائے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 917