Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 912

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِأَصْبَعِهٖ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد أَبُو دَاوُدَ وَلَا يُجَاوِزُ بَصَرُهٗ إِشَارَتَهُ

وعن عبد الله بن الزبير قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يشير بأصبعه إذا دعا ولا يحركها. رواه أبو داود والنسائي وزاد أبو داود ولا يجاوز بصره إشارته

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے مگر اسے ہلاتے نہ تھے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد نے یہ زیادہ کیا کہ آپ کی نگاہ اشارے سے آگے نہ بڑھتی۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس دعا سے مراد کلمۂ شہادت ہے کیونکہ درود،رب کی حمد و ثنا، حضور کی نعت،سب در پردہ دعائیں ہیں۔فقیر کا غنی کے دروازے پر آکر کہنا آپ بڑے سخی ہیں،داتا ہیں درپردہ مانگنا ہی ہے۔ نہ ہلانے کا مطلب یہ ہے کہ انگلی اٹھا کر اسے جھماتے نہ تھے۔
۲
؎یعنی بروقت اشارہ آپ اپنی انگلی کو دیکھتے تھے۔خیال رہے کہ نماز کی نشست میں نگاہ گود میں چاہیے لیکن گود میں نگاہ ہوتے ہوئے انگلی بخوبی نظر آجاتی ہے۔راوی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اشارہ کے وقت آسمان یا سجدہ گاہ کو نہ دیکھتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 912