Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6010

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلَا يَفُوْنَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُوْنَ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم إن بعدهم قوما يشهدون ولا يستشهدون ويخونون ولا يؤتمنون وينذرون ولا يفون ويظهر فيهم السمن» . وفي رواية: «ويحلفون ولا يستحلفون». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میر ی امت میں بہترین میرا گروہ ہے ۱؎پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۲؎پھر ان کے بعد ایسی قوم ہوگی جو گواہی دے گی حالانکہ گواہ بنائی نہ جائے گی۳؎خیانت کرے گی امانت نہ کرے گی۴؎نذر مانے گی اور نذر پوری نہ کرے گی۵؎اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ قسم کھائیں گےحالانکہ قسم نہ لئے جائیں گے۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قرنکے لفظی معنی ہیں ملنا اسی سے ہے اقتران اور قرین،اصطلاح میں زمانہ کو بھی قرن کہتے ہیں اور زمانہ والوں کو بھی جو بیک وقت موجود ہوں یہاں قرن بمعنی اہل زمانہ ہیں یعنی ساتھی اس لیے آگے ہےثم الذین یلونھم۔قرن بمعنی زمانہ میں گفتگو ہے کہ کتنے زمانہ کو قرن کہتے ہیں۔بعض نے کہا چالیس سال،بعض نے کہا اسی۸۰سال،بعض نے کہا سو سال،قوی یہ ہی ہے قرن مطلقًا زمانہ کو کہتے ہیں اس کی حد نہیں۔(مرقات)
۲
؎یہاں پہلے قرن سے مراد صحابہ کرام ہیں، دوسرے سے مراد تابعین، تیسرے سے مراد تبع تابعین ہیں۔ خیال رہے کہ زمانہ صحابہ حضور کی ظہور نبوت سے ایک سوبیس سال تک رہا یعنی قریبًا ۱۰۰ سو ہجری تک اور زمانہ تابعین ۱۰۰سے ۱۷۰ ایک سو ستر تک اور زمانہ تبع تابعین ۱۷۰سے ۲۲۰ دو سوبیس تک، اس کے بعد مسلمانوں میں بڑے فتنے تفرقہ بازیاں شروع ہو گئیں۔ معتزلہ، فلاسفہ، جہیمہ وغیرہ فرقے بعد ہی کی پیداوار ہیں بدعات کا زور بعد ہی میں ہوا۔
۳
؎اس فرمان عالی کے بہت مطالب بیان کیے گئے ہیں مگر آسان اور قوی مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ واردات کے موقعہ پر موجود نہ کیے گئے ہوں گے بلائے نہ گئے ہوں گے مگر قاضی کے ہاں گواہی دیں گے یعنی جھوٹی گواہی جیساکہ آج کل دیکھاجارہا ہے کہ کچہریوں میں لوگ مقدمہ والوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا تمہیں گواہ چاہئیں تو ہم حاضر ہیں اتنے روپیہ دو جو بتاؤ اس کی گواہی دے دیں لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ اچھے گواہ وہ ہیں جو بغیر بلائے گواہی دیں وہاں سچی گواہی مراد ہے۔
۴
؎یعنی وہ لوگ امین نہ ہوں گے خائن ہوں گے یا وہ لوگ خائن ہوں گے انہیں کوئی امین نہ بنائے گا،اپنی امانت ان کے سپرد نہ کرے گا جانتا ہوگا کہ یہ خائن ہے۔
۵
؎یعنی مانی ہوئی نذریں پوری نہ کریں گے۔معلوم ہوا کہ نذر پوری کرنا بڑا ضروری ہے،رب فرماتاہے:"یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا"۔خیال رہے کہ زیادہ نذریں ماننا اچھا نہیں مگر مانی ہوئی نذر کا پورا کرنا بہت ضروری ہے یہ شرعی نذر کا حکم ہے،لغوی نذر جو اولیاء اللہ کے نام کی ہو اس کا پوراکرنا بہتر ہے فرض نہیں جیسے میلاد شریف یا گیارہویں شریف کی نذریں ماننا،اس کی بحث ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔یعنی وہ لوگ بہت عیش و آرام میں رہیں گے کام کاج کریں گے نہیں جس سے موٹے ہوجائیں گے،انہیں موٹا ہونا بہت پسند ہوگا قدرتی موٹاپے کا یہاں ذکر نہیں ہے،یا یہ مطلب ہے کہ جھوٹی شیخی مارا کریں گے،یا یہ مطلب ہے کہ بہت مالدار ہوناپسند کریں گے تاکہ موٹے تازے رہیں۔ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم کو پسند نہیں کرتا ہے وہاں بھی موٹاپے سے یہ ہی احتمالات ہیں۔(مرقات)
۶
؎یعنی بہت قسم کھانے کے عادی ہوں گے بلاوجہ قسمیں کھایا کریں گے جیساکہ اب بھی بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ قسم پہلے بات پیچھے،یا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ بے اعتبار جھوٹے ہوں گے اپنا اعتبار دلانے کے لیے بات بات پرقسم کھایا کریں گے پھر بھی لوگوں کو ان کا اعتبار نہ ہوگا۔خیال رہے کہ بہت قسمیں کھانے سے روزی گھٹتی ہے یہ تو سچی قسموں کا اثر ہے پھر جھوٹی قسموں کا کیا حال ہوگا۔(دیکھو شامی)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6010