Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6009

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ:هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ " (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهٖ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأٰى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهٖ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ: اُنْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأٰى مَنْ رَأٰى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأٰى مَنْ رَأٰى أَحَدًا رَأٰى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُ"

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقولون:هل فيكم من صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم. فيقولون: نعم. فيفتح لهم ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقال: هل فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فيقولون: نعم. فيفتح لهم ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقال: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فيقولون: نعم. فيفتح لهم " (متفق عليه). وفي رواية لمسلم قال: "يأتي على الناس زمان يبعث منهم البعث فيقولون: انظروا هل تجدون فيكم أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فيوجد الرجل فيفتح لهم به ثم يبعث البعث الثاني فيقولون: هل فيهم من رأى أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم؟ فيفتح لهم به ثم يبعث البعث الثالث فيقال: انظروا هل ترون فيهم من رأى من رأى أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم؟ ثم يكون البعث الرابع فيقال: انظروا هل ترون فيهم أحدا رأى من رأى أحدا رأى أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم؟ فيوجد الرجل فيفتح له"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید الخدری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا ۱؎کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو لوگ کہیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہا ہو تو کہیں گے کہ ہاں پھر انہیں فتح دی جاوے گی۲؎پھر لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا تو لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جاوے گا کہ تم میں وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو لوگ کہیں گے ہاں پھر انہیں فتح دی جاوے گی،پھر لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جاوے گا کہ کیا تم میں وہ ہے جو ان کے ساتھ رہا ہو جو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے ساتھ رہے لوگ کہیں گے ہاں تو انہیں فتح دی جاوے گی۳؎(مسلم وبخاری) اور مسلم کی روایت میں ہےفرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آوےگا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جاوے گا تو کہیں گے کہ دیکھو کیا تم اپنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صحابی پاتے ہو تو ایک صحابی پائے جائیں گے تو انہیں فتح دی جاوے گی۴؎پھر دوسرا لشکر بھیجا جاوے گا تو کہیں گے کیا ان میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو دیکھا۵؎پھر انہیں فتح دی جاوے گی پھر تیسرا لشکر بھیجا جاوے گا تو کہا جاوے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں وہ شخص دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو پھر چوتھا لشکر ہوگا تو کہا جاوے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ہے تو ایک شخص پایا جائے گا تب اسے فتح دی جاوے گی۶؎

شرح حدیث

۱∞؎اس زمانہ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد کا زمانہ ہے جو زمانہ صحابہ کو بھی شامل ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎یعنی غازی لوگ ان صحابی کے توسل سے بارگاهِ الٰہی میں دعا فتح کریں گے اور انہیں فتح نصیب ہوگی یا صحابی کی صرف شرکت جہاد سے مطمئن اور خوش دل ہوجائیں گے ان کے وجود سے اللہ کی رحمت کی امید قوی کریں گے۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے بعد صحابہ کے طفیل سے،پھر صحابہ کے بعد تابعین کے طفیل سے،پھر تابعین کے بعد تبع تابعین کے طفیل سے انکے وسیلہ سے جہادوں میں فتح کی دعائیں کی جائیں گی اور فتح نصیب ہوگی۔اس حدیث سے توسل اولیاء کا ثبوت ہوا اور یہ کہ اولیاء اللہ کے وسیلہ سے اللہ کی رحمتیں آتی ہیں،جہادوں میں فتح نصیب ہوتی ہے،لکڑی کے طفیل لوہا بھی تر جاتا ہے۔ قرآن کریم سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بزرگوں کے تبرکات،عمامہ،نعلین،بال،لباس وغیرہ کے ذریعہ فتح نصیب ہوتی ہے، فرماتا ہے:"اِنَّ اٰیَۃَ مُلْكِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡهِ سَكِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ھٰرُوۡنَ"دیکھو رب نے طالوت کے ساتھی اسرائیلیوں کے لیے ایک جہاد میں حضرت موسیٰ و ہارون کے تبرکات عمامہ،جوتا وغیرہ ایک صندوق میں رکھے ہوئے بھیجے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں سے نسبت بڑی چیز ہے اگرچہ نسبت دوری کی ہو۔حضرت جبریل علیہ السلام کی گھوڑی کی ٹاپ کے نیچے کی خاک سے سامری کے سونے کے بچھڑے میں جان پڑ گئی جو قرآن مجید سورۂ طٰہٰ میں بالتفصیل مذکور ہے"فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ"الخ۔
۴
؎یعنی اس ایک صحابی کی برکت سے ان کے توسل دعا سے فتح نصیب ہوگی،یہ مطلب نہیں کہ ان صحابی کی شجاعت و بہادری سے فتح ہوگی۔
۵
؎یعنی کسی تابعی کو جہاد میں ساتھ لے لو یا ان کے توسل سے دعاء فتح کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ وسیلہ کے لیے اولیاء اللہ کی تلاش کرنا سنت مسلمین ہے حضور انور کو محبوب ہے۔
۶
؎اس حدیث کی وجہ سے بعض لوگوں نے کہا ہے جیسے صحابیت کے لیے صرف ایک نظر حضور کے چہرہ پر یا ایک آن کی صحبت کافی ہے،ایسے ہی تابعیت کے لیے صحابی کو ایک نظر دیکھ لینا یا ایک آن ان کی صحبت میں رہنا کافی ہے،ایسے ہی تبع تابعیت کے لیے مگر حق یہ ہے کہ صحابیت کےلیے تو حضور کو ایک نظر دیکھنا کافی ہے مگر تابعیت کے لیے بہت عرصہ صحابی کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔(اشعہ)خیال رہے کہ سارے تابعی یا تبع تابعی عادل و ثقہ نہیں ان میں فساق وفجار بھی ہیں اور ابرار و اخیار بھی، یزید حجاج وغیرہم تابعی ہیں مگر ہزارہا فاسقوں کے ایک فاسق ہیں۔خیال رہے کہ اولیاء اللہ سے توسل تاقیامت جاری رہے گا،حضور انور نے فرمایا کہ چالیس ابدال کی برکت سے بارشیں ہوں گی،نیز وفات یافتہ بزرگوں کا وسیلہ بھی حق ہے۔حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نے حضور کے روضہ انور کی چھت کھلوادی جس سے بارش ہوئی،یہاں منشا یہ ہے کہ جس لشکر میں صحابی یا تابعی ہوں تو ان کی برکت سے اللہ فتح دیتا ہے۔بہرحال یہ حدیث وفات یافتہ بزرگوں سے توسل کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6009