Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6017

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلٰى شَرِّكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله على شركم". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں ۱؎تو کہو کہ تمہاری شر پر اللہ کی پھٹکار۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میں غیبی خبر بھی ہے کہ آئندہ مسلمانوں میں دشمنان صحابہ پیدا ہوں گے اور یہ کہ ایسے دشمن خود صحابہ کے زمانہ ہی میں پیدا ہوجائیں گے۔چنانچہ خلافت حیدری میں عبداللہ ابن سبا یہودی نے مذہب رفض ایجاد کیا اور پھیلایا غرضیکہ اس فرمان عالی میں دو غیبی خبریں ہیں۔
۲
؎یعنی صحابہ کرام تو خیر ہی خیر ہیں تم ان کو برا کہتے ہو تو وہ برائی خود تمہاری طرف ہی لوٹتی ہے اور اس کا وبال تم پر ہی پڑتا ہے۔فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی پر لعنت کرے مگر وہ لعنت کے لائق نہ ہو تو لعنت خود اس لعنت کرنے والے پر پڑتی ہے۔علی شرکممیں اسی جانب اشارہ ہے کہ کسی کے کام پر لعنت کرنا آسان ہے اور فاعل پر لعنت کرنا دشوار،دیکھو یہاںعلی شرکمفرمایاعلیکمنہیں فرمایا۔حضرت حسان نے ان کفار سے جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اہانت کرتے تھے فرمایا؎اتھجوہ ولست لہ بکفو
فشر کما الخیر کما فداء(
مرقات)
حدیث مرفوع میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخر زمانہ میں ایک قوم پیدا ہوگی جنہیں رافضی کہا جائے گا کیونکہ اسلام کو رفض کرچکے ہوں گے(چھوڑ چکے ہوں گے)وہ لوگ مشرکین ہیں وہ اپنے کو محبان اہل بیت کہیں گے مگر ہوں گے جھوٹے کیونکہ جناب ابوبکر و عمر کو گالیاں دے گے۔(مرقات،صواعق)روافض دشمنان صحابہ ہیں،خوارج دشمنانِ اہل بیت، ان کی دشمنی سے ان صحابہ و اہل بیت کے درجات تا قیامت بڑھتے رہیں گے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6017