Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6014

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهَ اللّٰهَ فِي أَصْحَابِي اللّٰهَ اللّٰهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللّٰهَ وَمَنْ آذَى اللّٰهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الله الله في أصحابي الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضا من بعدي فمن أحبهم فبحبي أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه» . رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ۱؎اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میرے صحابہ سے بغض مجھ سے بغض ہے تو اس کے برعکس صحابہ سے محبت مجھ سے محبت ہے۔صحابہ کی شان تو بہت اونچی ہے،مدینہ طیبہ کے خاردخار سے محبت،وہاں کے جانوروں،وہاں کے کتوں سے محبت حضور انور سے محبت کا ذریعہ بھی ہے اور اس کا نتیجہ بھی ہے۔حضرت امیرملت محدث علی پوری قدس سرہٗ مدینہ منورہ میں ایک دعوت میں کھانا کھا رہے تھے کہ ایک کتا آگیا،کسی نے لاٹھی ماری جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی آپ کھانا چھوڑکر بھاگے یہ کہتے ہوئے کہ ارے یہ مدینہ کا کتا ہے اسے نہ مارو،کتے کو گود میں اٹھالیا اپنی پگڑی پھاڑ کر اس کی ٹانگ سے باندھی،گھر لائے علاج کرایا،عشق سب کچھ کرا لیتا ہے،مجنوں سے پوچھوکہ لیلی کے کتے کی شان کیا ہے۔
۲
؎یعنی صحابہ کرام میں سے کسی کو ستانا درحقیقت مجھے ستانا ہے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ صحابہ کو برا کہنے والا قتل کا مستحق ہے کہ اس کا یہ عمل عداوت رسول کی دلیل ہے۔(مرقات)اور عداوت رسول عداوت رب ہے ایسا مردود دوزخ ہی کا مستحق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6014