Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6016

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ وَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ«لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ»فِي بَابِ«حِفظ اللِّسَان»

وعن عبد الله بن بريدة عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من أحد من أصحابي يموت بأرض إلا بعث قائدا ونورا لهم يوم القيامة» . رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب وذكر حديث ابن مسعود«لا يبلغني أحد»في باب«حفظ اللسان»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بریدہ سے وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میراکوئی صحابی کسی زمین میں وفات نہیں پاتا مگروہ قیامت کے دن ان کا پیشرو ان کا نور ہوگا ۱؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابن مسعود کی حدیث کہ مجھے کوئی نہ پہنچائےالخ زبان کی حفاظت کے باب میں ذکر کردی گئی۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس سرزمین میں میرے کسی صحابی کی وفات و دفن ہوں گے قیامت کے دن اس سر زمین کے سارے مسلمان ان صحابی کے جلو میں محشر کی طرف چلیں گے اور یہ صحابی ان سب کے لیے روشن شمع ہوں گے،ان کی روشنی میں سارے لوگ قبروں سے محشر تک اور محشر سے جنت تک پل صراط و غیرہ سے ہوتے ہوئے پہنچیں گے۔
۲
؎یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی ہم نے مناسب کالحاظ رکھتے ہوئےباب حفظ اللسانمیں بیان کردی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6016