Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5278

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- غَرَزَ عُودًا بَيْنَ يَدَيْهِ وآخَرَ إِلَى جَنْبِهِ وآخَرَ أَبْعَدَ مِنْهُ، فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "هَذَا الإِنْسَانُ وَهَذَا الأَجَلُ"، أُرَاهُ قَالَ: "وَهَذَا الأَمَلُ، فَيَتَعَاطَى الأَمَلَ فَلَحِقَهُ الأَجَلُ دُونَ الأَمَلِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أبي سعيد الخدري: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- غرز عودا بين يديه وآخر إلى جنبه وآخر أبعد منه، فقال: "أتدرون ما هذا؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: "هذا الإنسان وهذا الأجل"، أراه قال: "وهذا الأمل، فيتعاطى الأمل فلحقه الأجل دون الأمل". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور دوسری اس کے برابر اور تیسری اس سے بہت دور ۲؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ارسول خوب جانیں،فرمایا یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۳؎مجھے خیال ہے کہ فرمایا اوریہ امید ہے انسان امیدوں میں مشغول رہتا ہے مگر اسے امید سے پہلے موت پہنچ جاتی ہے ۴؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شریف سعد ابن مالک ابن سنان ہے(ترمذی ابواب البروالصلہ)آپ کے حالات شریف بیان ہوچکے ہیں۔
۲
؎یعنی تین لکڑیاں اس طرح گاڑھیں کہ دو ملی ہوئی اور تیسری بہت فاصلہ سے،آج کل اسکولوں میں عملی مشق کرائی جاتی ہے یہ عملی مشق تھی۔
۳
؎مقصد یہ ہے کہ موت انسان سے بہت قریب ہے مگر اس کی ا میدیں بہت دراز۔خیال رہے کہ انسان شخصی ضروریات میں کمی کرے مگر قومی دینی مکمل ضروریات و خدمات بہت زیادہ انجام دے کہ اشخاص مرتے ہیں قوم و دین نہیں مرجاتے۔بزرگوں نے دینی کتب لکھیں جو صدیوں سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچارہی ہیں،حضور انور نے سارا حجاز فتح فرمالیا اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ امت کے لیے دین کے لیے،اب تک ان سے فائدے پہنچ رہے ہیں۔خیال رہے کہ سکندر اعظم اور نپولین اعظم کے مفتوحہ علاقہ دوسری قوموں کے پاس پہنچ گئے،فاروق اعظم کے مفتوحہ علاقے مسلمانوں ہی کے قبضہ میں ہیں قریبًا چودہ سو سال گزر چکے ہیں روم،ایران وغیرہ۔
۴
؎یعنی انسان کی ایک امید پوری ہوئی تو دو سامنے آجاتی ہیں دو پوری ہوں تو چار سامنے آتی ہیں یہ سلسلہ یوں ہی دراز ہوتا چلا جاتاہے کہ موت آلیتی ہے۔شعر
امیدبستہ برآمد ولے چہ فائدہ زانکہ امید نیست کہ عمر گزشتہ باز آید

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5278