Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5281

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الأُمَّةِ الْيَقِينُ وَالزُّهْدُ، وَأَوَّلُ فَسَادِهَا الْبُخْلُ وَالأَمَلُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "أول صلاح هذه الأمة اليقين والزهد، وأول فسادها البخل والأمل". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کی پہلی درستی یقین اور زہد ہے ۱؎اور اس کا پہلا فساد بخل اور دراز امید ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمان کی پہلی نیکی جو باقی نیکیوں کی جڑ ہے وہ یقین ہے اور یقین چار قسم کا ہے: (۱)جو خیر و شر ہے وہ رب تعالٰی کی طرف سے ہے (۲)جو روزی مقدر میں ہے وہ ضرور ملے گی(۳)نیک و بد اعمال کی سزا و جزا ضرور ملے گی (۴)اتعالٰی ہمارے ہر حال سے خبردار ہے،ان چاروں باتوں پر یقین رکھے توان شاءاﷲبخل،حسد،کینہ بدعملی ان سب سے محفوظ رہے گا۔(اشعہ)
۲
؎یعنی مسلمان کا پہلا گناہ جو دوسرے گناہوں کی جڑ ہے وہ یہ دو چیزیں ہیں۔بخل جڑ ہے خونریزی فساد کی،لمبی امیدیں جڑ ہیں غفلت و گناہوں کی۔انسان بڑھاپے میں بھی یہ سوچتا ہے کہ ابھی عمر بہت ہے نیکیاں آئندہ کرلیں گے اسی خیال میں رہتے ہیں کہ موت آجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5281