Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5277

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ"، وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بَسَطَ فَقَالَ: "وَثَمَّ أَمَلُهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "هذا ابن آدم وهذا أجله"، ووضع يده عند قفاه ثم بسط فقال: "وثم أمله". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا ۱؎پھر ہاتھ دراز کیا فرمایا یہاں اس کی امید ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎تفاسیر کا پچھلا حصہ جسے اردو میں گدی کہا جاتا ہے پنجابی میں گھتی۔
۲
؎یعنی موت تو سر پر کھڑی ہے اور امیدیں بہت لمبی لمبی بندھی ہوئی ہیں یہ ہم جیسے غافلوں کا ذکر ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ شعر پڑھتے تھے شعرکل امرئٍ مصبح فی اھلہ والموت اقرب من شراك نعلہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5277