Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5275

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَأَنَا وَأُمِّي نُطَيِّنُ شَيْئًا فَقَالَ:"مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ " قُلْتُ: شَيْءٌ نُصْلِحُهُ، قَالَ: "الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عن عبد الله بن عمرو قال: مر بنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأنا وأمي نطين شيئا فقال:"ما هذا يا عبد الله؟ " قلت: شيء نصلحه، قال: "الأمر أسرع من ذلك". رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے میں اور میری ماں کسی چیز کو مٹی سے لپیٹ رہے تھے تو فرمایا اے عبدایہ کیا ہے ۱؎میں نے عرض کیا ایک چیز ہے جسے ہم درست کررہے ہیں فرمایا وہ کام اس سے بھی جلد آرہا ہے ۲؎(احمد ،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم تو عبد،کے بندے ہو پھر ان آفتوں میں کیوں پھنس گئے۔(مرقات)
۲
؎یہ گھر مرمت کے لائق تھا نہیں بالکل درست تھا مضبوطی کے لیے یہ سب کچھ کررہے تھے،فرمایا کہ تمہاری موت اس گھرکے فنا ہونے سے پہلے آجائے گی لہذا اس کی مرمت میں پھنس کر اپنے قلب و قالب کی مرمت سے غافل نہ ہوجاؤ،نیک اعمال قالب کی مرمت ہے اللہ کا خوف حضور سے محبت دل کی مرمت ہے اس کی کوشش کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5275