Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5274

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وعُدَّ نفسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن ابن عمر قال: أخذ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ببعض جسدي فقال: "كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل، وعد نفسك في أهل القبور". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ پکڑا ۱؎پھر فرمایا دنیا میں رہو جیسے کہ تم مسافر ہو یا راہ گیر ۲؎اور اپنے کو قبر والوں میں سے شمار کرو ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کندھا مراد ہے،حضور انور نے حضرت ابن عمر کا کندھا پکڑ کر یہ فرمایا۔کندھا پکڑنا قلبی فیض دینے کے لیے تھا قلبی فیض کے بغیر نصیحت اثر نہیں کرتی۔(مرقات)زبان سے قال دیا جاتا ہے نگاہ سے حال عطا کیا جاتا ہے،صرف قال بغیر حال مفید نہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
قال رابگراز مرد حال شو زیر پائے کاملے پامال شو
۲
؎غریبکہتے ہیں غریب الوطن مسافر کو اگرچہ وہ کسی جگہ چند دن ٹھہر جائے مگرعابرسبیل وہ راہگیر ہے جو کسی جگہ دوپہری گزارنے کے لیے بیٹھ جائے یہ دونوں سفر اور جنگل میں دل نہیں لگاتے تم بھی دنیا میں دل نہ لگاؤ،مسافروں کی طرح اگلی منزل کے لیے تیار رہو،دنیا منزل ہے آخرت وطن،منزل پر کچھ دیر آرام کرلو مگر غافل ہو کر سو نہ جاؤ سفر کا سامان باندھے تیار رہو،جب موت کی ریل آئے تمہیں تیار پائے ہر وقت اس کے منتظر رہو۔
۳
؎یعنی جیسے مرکر مردہ سب سے الگ ہوجاتا ہے نہ مال اس کا رہتا ہے نہ عزیز تم زندگی میں اپنا دل ان تمام سے الگ رکھو،دنیا آنے پر پھولو مت جانے پر رب کو بھولو مت،اپنے کو اللہ رسول کے قبضہ میں ایسے کردو جیسے مردہ غسال کے ہاتھ میں۔صوفیاء فرماتے ہیںموتوا قبل ان تموتوامرنے سے پہلے مرجاؤ یا فرماتے ہیںحاسبوا قبل ان تحاسبواحساب دینے سے پہلے اپنا حساب کرلو۔ان زریں اقوال کا ماخذ یہ حدیث شریف ہے جو مرنے سے پہلے مرجائے گا وہ پھر کبھی نہ مرے گا۔شعر
میں مروں تو جگ مرے مرے میری بلا چیلا سچے پیر کا مرے نہ مارا جائے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5274