Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5273

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا، وَلَا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى ثالثا، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب، ويتوب الله على من تاب". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایااگر انسان کے پاس مال کے دو جنگل ہوں تو وہ تیسرا تلاش کرے ۱؎انسان کے پیٹ کو مٹی کے سواء کوئی چیز نہیں بھرسکتی ۲؎اور اتوبہ قبول کرلیتا ہے اس کی جو توبہ کرے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں دو اور تیسرا حد بندی کے لیے نہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر دو جنگل بھر مال ہو تو تیسرے جنگل کی خواہش کرے اور اگر تین جنگل مال ہو تو چوتھے کی اسی طرح سلسلہ قائم رکھے۔انسان کی ہوس زیادہ مال سے نہیں بجھتی یہ تو فضل ذوالجلال سے بجھتی ہے۔
۲
؎ترابسے مراد قبر کی مٹی ہے یعنی انسان کی ہوس قبر تک رہتی ہے مر کر ہوس ختم ہوتی ہے۔یہ حکم عمومی ہے اللہ تعالٰی کے بندے اس حکم سے علیحدہ ہیں بڑے صابر و شاکر ہیں جیسے حضرات انبیاء کرام اور خالص اولیاء اللہ مگر ایسے قناعت والے بہت کم ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے اور مٹی کی فطرت خشکی ہے اس کی خشکی صرف بارش سے ہی دور ہوتی ہے،بارش ہونے پر اس میں سبزہ پھل پھول سب کچھ ہوتے ہیں،یوں ہی اگر انسان پر توفیق کی بارش نہ ہو تو انسان محض خشکا ہے، اگر نبوت کے بادل سے توفیق و ہدایت کی بارش ہو تو اس میں ولایت تقویٰ وغیرہ کے پھل پھول لگتے ہیں۔(مرقات)
۳
؎یعنی انسان اگرچہ برائیوں کا مجموعہ ہے لیکن اگر توبہ کرکے رب کی طرف رجوع کرے تو آغوش رحمت اس کے لیے کھلا ہے۔صوفیاء کے نزدیک توبہ ہی توفیق کی بارش ہے۔خیال رہے کہ بارش سے مٹی میں باغ لگتے ہیں پتھروں میں نہیں لگتے،سخت دل آدمی نیک نہیں بن سکتا۔شعر
دربہاراں کے شود سرسبز سنگ خاک شو تاگل بروید رنگ رنگ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5273