Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3162

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: "إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ" قالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَة وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّه عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ" وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنها قالت: جاء عمي من الرضاعة فاستأذن علي، فأبيت أن آذن له حتى أسأل رسول الله - صلى الله عليه وسلم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألته فقال: "إنه عمك فأذني له" قالت: فقلت: يا رسول الله إنما أرضعتني المرأة ولم يرضعني الرجل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إنه عمك فليلج عليك" وذلك بعدما ضرب علينا الحجاب. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میرے دودھ کے چچا آئے اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۱؎میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے حضور سے پوچھا فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں،اجازت دے دو ۲؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا۳؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں ۴؎یہ واقعہ ہم پر پردہ فرض ہونے کے بعد کا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان آنے والے حضرت کا نام افلح تھا، کنیت ابوالجعد ہے ابو قعبس کے بھائی،ابو قعبس کی بیوی نے حضرت عائشہ صدیقہ کو دودھ پلایا تھا۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ دودھ کی ماں کا وہ خاوند جس سے یہ دودھ وہ مرد وہ پینے والا بچہ کا باپ بن جاتا ہے اور اس کا بھائی چچا اس کا والد دادا۔ فقہاء اسے کہتے ہیں لبن الفحل۔
۳
؎ام المؤمنین سمجھیں کہ دودھ سے حرمت آتی ہے اور دودھ تو عورت کا ہے لہذا اس کے اقارب حرام ہونے چاہئیں نہ کہ اس کے خاوند کے اس لیے یہ سوال کیا۔
۴
؎خلاصہ جواب یہ ہے کہ دودھ اگرچہ اس ماں کا ہے مگر اس کے خاوند سے ہے اس لیے دو طرفہ حرمت ہوگی،سبحان اللہ کیا فلسفیانہ و حکیمانہ جواب ہے۔
۵
؎لہذا یہ حکم آیت حجاب سے منسوخ نہیں یہ حکم محکم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3162