Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3176

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ، وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَمْسِكْ أَرْبَعًا، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن عمر: أن غيلان بن سلمة الثقفي أسلم، وله عشر نسوة في الجاهلية، فأسلمن معه فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "أمسك أربعا، وفارق سائرهن". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ غیلان ابن سلمہ ثقفی اسلام لائے ۱؎ان کے زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ اسلام لائیں ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار کو رکھ لو باقی کو علیحدہ کردو ۳؎(احمد،ترمذی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ فتح طائف کے بعد اسلام لائے بنی ثقیف کے بڑے معزز آدمی تھے عہد فاروقی میں وفات ہوئی۔
۲
؎زمانہ جاہلیت میں عورتوں کی تعداد مقرر نہ تھی جتنی سے چاہو نکاح کرلو اورا پنے ساتھ رکھو اس قاعدے سے آپ کے نکاح میں دس بیویاں تھیں۔
۳
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ کفار کے نکاح درست ہیں کہ اگر وہ دونوں زوجین ایمان لے آئیں تو اب تجدید نکاح کی ضرورت نہیں،رب تعالٰی نے ابی لہب کی بیوی جمیلہ کو اس کی زوجہ مانا کہ فرمایا:"وَامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ"۔ دوسرے یہ کہ کفار زمانہ کفر کے نکاح پر قائم رکھے جائیں گے اگرچہ انکے نکاح اسلامی قاعدے پر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر کسی کافر کے نکاح میں محرم عورت ہوئی تو اسے علیحدہ کرادیا جائے گا۔تیسرے یہ کہ چار سے زیادہ بیویاں اگر ہوں تو بعد اسلام چار ہی رکھنا ہوں گی اور اس میں خاوند کو اختیار ہوگا جنہیں چاہے رکھے،چوتھے یہ کہ اس علیحدگی میں شرعی طلاق کی ضرورت نہیں خاوند کا صرف علیحدہ کردینا ہی کافی ہوگا۔خیال رہے کہ چار کی پابندی بیویوں کے متعلق ہے لونڈیاں جتنی چاہے رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3176