Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3163

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُ: "أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ؟ وَأَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن علي أنه قال: يا رسول الله! هل لك في بنت عمك حمزة؟ فإنها أجمل فتاة في قريش فقال له: "أما علمت أن حمزة أخي من الرضاعة؟ وأن الله حرم من الرضاعة ما حرم من النسب". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو اپنے چچا حمزہ کی بیٹی میں رغبت ہے وہ قریش میں حسین ترین لڑکی ہے ۱؎تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تمہیں علم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ کے بھائی ہیں ۲؎اور یہ کہ اللہ نے دودھ کے رشتہ سے وہ عورتیں حرام کیں جو نسب سے حرام فرمائیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی درہ بنت حمزہ آپ کی چچا زاد قریبی بھی ہے اور قریش میں بہت حسینہ و جمیلہ و خوب سیرت بھی اس سے آپ کا نکاح بہت موزوں ہوگا۔
۲
؎کیونکہ ابولہب کی لونڈی بی بی ثویبہ نے اولًا حضرت حمزہ کو دودھ پلایا پھر چار سال کے بعد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا،معلوم ہوا کہ شیر کی حرمت میں ایک ساتھ دودھ پینا شرط نہیں بلکہ ایک پستان کا دودھ ہونا کافی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو چار عورتوں نے دودھ پلایا: والدہ مطہرہ آمنہ خاتون،ثویبہ،ام ایمن،حلیمہ سعدیہ اور تمام دودھ پلانے والیاں ایمان لائیں،تین بیبیاں تو اپنی زندگی میں ہی اور حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کو حضور نے زندہ فرما کر انہیں کلمہ پڑھایا شرعی مؤمنہ و صحابیہ بنایا۔( مرقات،نقلًا عن سیوطی)
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حمزہ میرے چچا بھی ہیں اور شیر کے بھائی بھی اور دودھ کے بھائی بیٹی حرام ہوتی ہے کہ وہ بھتیجی ہے لہذا درہ بنت حمزہ پر حرام ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3163