Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3174

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَاجٍ الأَسلَمِيِّ عنْ أَبيِهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسولَ اللّٰهِ! مَا يُذهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ فَقَالَ: "غُرَّةُعَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن حجاج بن حجاج الأسلمي عن أبيه أنه قال: يا رسول الله! ما يذهب عني مذمة الرضاع؟ فقال: "غرةعبد أو أمة". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حجاج ابن حجاج اسلمی سے وہ اپنے باپ سےراوی ۱؎انہوں نے عرض کیا یارسول اکون چیز مجھ کو شیر خوارگی کا حق ادا کراسکتی ہے ۲؎فرمایا غلام یا لونڈی کی پیشانی ۳؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حجاج اسلمی صحابی ہیں انکے بیٹے حجاج ابن حجاج تابعی ہیں یہ تابعی ۱۳۱ھ؁ ∞ میں مروان حمار کے زمانہ میں وفات پائی،یہ وہ حجاج ظالم نہیں کہ وہ حجاج ثقفی ہے دیکھو۔(اشعہ ومرقات)
۲
؎مذمہ وذمام فتح وکسرہ سے بمعنی حق و حرمت و احترام یعنی جس کے ضائع کرنے والے کی ذمہ و برائی کی جائے۔مطلب یہ ہے کہ وہ کون سی خدمت اپنی دودھ کی ماں کی کروں جس سے اس کے دودھ کا حق ادا ہو معلوم ہوا کہ دودھ کی اجرت دے دینے سے اس کا حق ادا نہیں ہوجاتا۔
۳
؎یعنی اپنی دائی کو اعلیٰ درجہ کی لونڈی یا غلام دے دو جو اس کی خدمت کرے،خدمت کا بدلہ خدمت ہے اور دائی خود کسی کی لونڈی ہو یا اس کا خاوند کسی کا غلام ہو تو اسے خرید کر آزاد کردو پھر بھی اس کا احترام و خدمت بچہ پر لازم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3174