Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3177

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "فَارِقْ وَاحِدَةً، وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا" فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً فَفَارَقتُهَا. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُنَّةِ".

وعن نوفل بن معاوية قال: أسلمت وتحتي خمس نسوة، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "فارق واحدة، وأمسك أربعا" فعمدت إلى أقدمهن صحبة عندي: عاقر منذ ستين سنة ففارقتها. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نوفل ابن معاویہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اسلام لایا حالانکہ میرے قبضہ میں پانچ بیویاں تھیں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو فرمایا ایک کو جدا کردو اور چار کو رکھ لو ۲؎چنانچہ میں نے ان میں سے اپنی پرانی صحبت والی جو ساٹھ سالہ بانجھ تھی ۳؎ادھر توجہ کی اور اسے جدا کردیا(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ دیلمی ہیں،صحابی ہیں فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے اور فتح مکہ میں شریک ہوئے اسلام سے پہلے ساٹھ سال کفر میں گزارے بعد اسلام ساٹھ یا سو سال اور جیئے، یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎یعنی اب بعد اسلام تم کو صرف چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے لہذا ان میں سے ایک کو علیحدہ کردو معلوم ہوا کہ کفار اگر چار سے زیادہ بیویاں رکھیں تو ان کو ہم منع نہ کریں گے اور ان سب سے جو اولاد ہوگی حلال ہوگی چار کی پابندی صرف مسلمانوں پر ہے۔
۳
؎عاقر صفت یا بدل ہے اقدم کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ میں ایک عورت میرے پاس ساٹھ سالہ بانجھ اور بوڑھی تھی میں نے اس کو علیحدہ کردیا بقیہ عورتیں عمر میں بھی اس سے کم تھیں اوربانجھ بھی نہ تھیں انہیں رکھ لیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3177