Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3161

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَة". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دودھ کے رشتہ سے وہ ہی عورتیں حرام ہوتی ہیں جو ولادت کے رشتہ سے حرام ہوتی ہیں ۱؎(بخاری)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎دودھ پینے والے بچے پر دائی کے تمام وہ اہل قرابت حرام ہیں جو اپنے نسب سے حرام ہوتے ہیں دائی کا خاوند بیٹا،دیور، جیٹھ،بھائی وغیرہ مگر شیر خوار بچے کی اولاد و بیوی اس طرف والوں پر حرام ہوگی،رضاعت رضع سے بنا بمعنی پستان چوسنا۔خیال رہے کہ دودھ کے رشتہ سے حرمت تو آئے گی مگر اس رشتہ سے میراث نہ ملے گی نیز اس رشتہ کی وجہ سے پردہ لازم نہ ہوگا اس کے ساتھ سفر و خلوت جائز ہوگا۔
لطیفہ:امام بخاری نے غلطی سے بکری و گائے کے دودھ سے حرمت رضاعت کا فتویٰ دے دیا تھا جس پر تمام علماء ان کے مخالف ہوگئے اور آپ کو بخارا چھوڑنا پڑا(فتح القدیر و مرقات)
۲
؎یہ حدیث مسلم وابوداؤد ،نسائی،ابن ماجہ نے بھی روایت کی لہذا اسے متفق علیہ کہنا چاہیے تھا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3161