- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3180
باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3180
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَرُوِيَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ النِّسَاءِ رَدَّهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ عَلَى أَزوَاجِهِنَّ عِنْد اجْتِمَاعِ الإِسْلَامَيْنِ بَعْدَ اخْتِلَافِ الدِّينِ وَالدَّارِ، مِنْهُنَّ: بِنْتُ الْوَليدِ بْنِ مُغِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَةَ، فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ،وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الإِسلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْن عُمَيرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ،فَلَمَّا قَدِمَ جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ حَتَّى أَسْلَمَ، فَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ، وَأَسْلَمَتْ أَمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْل يَوْمَ الْفَتْح بِمَكَّةَ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أَمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ الْيَمَنَ، فَدَعَتْهُ إِلَى الإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ، فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شهَاب مُرْسَلًا.
وروي في "شرح السنة": أن جماعة من النساء ردهن النبي صلى الله عليه وسلم بالنكاح الأول على أزواجهن عند اجتماع الإسلامين بعد اختلاف الدين والدار، منهن: بنت الوليد بن مغيرة كانت تحت صفوان بن أمية، فأسلمت يوم الفتح،وهرب زوجها من الإسلام فبعث إليه ابن عمه وهب بن عمير برداء رسول الله صلى الله عليه وسلم أمانا لصفوان،فلما قدم جعل له رسول الله صلى الله عليه وسلم تسيير أربعة أشهر حتى أسلم، فاستقرت عنده، وأسلمت أم حكيم بنت الحارث بن هشام امرأة عكرمة بن أبي جهل يوم الفتح بمكة، وهرب زوجها من الإسلام حتى قدم اليمن، فارتحلت أم حكيم حتى قدمت عليه اليمن، فدعته إلى الإسلام، فأسلم، فثبتا على نكاحهما. رواه مالك عن ابن شهاب مرسلا.
حدیث ترجمہ
اور شرح سنہ میں روایت کی گئی کہ عورتوں کی ایک جماعت ہے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نکاح کی بنا پر ان کے خاوندوں پر واپس فرمایا، دونوں اسلاموں کے جمع ہونے کے وقت ۱؎دین اور ملک علیحدہ ہونے کے باوجود۲؎ان ہی سے ولید ابن مغیرہ کی بیٹی بھی ہے جو صفوان ابن امیہ کی زوجہ تھیں وہ فتح کے دن اسلام لائیں اور ان کے خاوند اسلام سے بھاگ گئے تو ان کے چچا زاد بھائی وہب ابن عمیر نے ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بطور امان صفوان کے لیے بھیجی ۳؎پھر جب وہ آئے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ماہ کا دیس نکالا دیا ۴؎تاآنکہ وہ مسلمان ہوئے ۵؎پھر ان کی بیوی ان کے پاس رہیں ۶؎اور ام حکیم بنت حارثہ ابن ہشام یعنی عکرمہ ابن ابوجہل کی بیوی فتح مکہ کے دن ایمان لے آئیں اور ان کے خاوند اسلام سے بھاگ گئے ۷؎حتی کہ یمن پہنچ گئے ۸؎ام حکیم چلیں تاآنکہ ان کے پاس یمن میں پہنچ گئیں پھر انہیں دعوت اسلام دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور یہ دونوں اپنے نکاح پر قائم رہے ۹؎(مالک عن ابن شہاب مرسلًا)۱۰؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی جب خاوند عورت کی عدت گزرنے سے پہلے ہی مسلمان ہوجائے تو نکاح اول قائم رہے گا تجدید نکاح کی ضرورت نہ ہوگی۔
۲؎یہ مذہب شافعی ہے کہ اختلاف ملک کے باوجود نکاح قائم رہے گا اور یہ جملہ ان کی دلیل ہے(مرقات)یہاں چار صورتیں ہیں:دو میں ہم و شافعی متفق ہیں اور دو میں مختلف:(۱)ایک یہ کہ کافر زوجین ہمارے ملک میں ذمی یا مستامن بن کر آئے اور دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوگئے،بالاتفاق نکاح باقی،(۲)کافر زوجین میں سے ایک قید کرکے دارالاسلام میں لایا گیا بالاتفاق نکاح ختم ہوگیا،ہمارے ہاں ملک بدل جانے کی وجہ سے اور امام شافعی کے ہاں اسلامی قیدی ہونے کی وجہ سے(۳)ان دونوں میں سے ایک ہمارے ملک میں ذمی یا مستامن بن کرآیا پھر مسلمان ہوگیا ہمارے ہاں نکاح فسخ ہوگیا شوافع کے ہاں نہیں(۴)دونوں کافر زوجین قید کرکے دارالاسلام لائے گئے امام شافعی کے ہاں نکاح فسخ ہوگیا قیدی ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں نہیں،جانبین کے دلائل شروع ہدایہ میں ملاحظہ کیجئے۔(مرقات)
۳؎یعنی وہب ابن عمیر نے صفوان ابن امیہ کے لیے حضور سے امان لے لی اور اس امان کی اطلاع صفوان کے پاس بھیجی اور ثبوت کے لیے حضور کی چادر شریف قاصد کے ہمراہ کردی تاکہ صفوان قاصد کی تصدیق کرکے اپنے کو امان میں سمجھ لیں، اور مکہ معظمہ آجائیں یا حضور نے وہب ابن عمیر کو امان اور اپنی چادر دے کر صفوان کے پاس بھیجا اس صورت میںبردآئہکافی تھا مگر بجائے ضمیر اظہار کردیا تاکہ معلوم ہو کہ چادر حضور کی تھی نہ کہ وہب کی۔
۴؎تسییرکے معنی ہیں سیر کرنے چلنے پھرنے کی اجازت یا اس کا حکم اوراربعۃ اشہراس کا ظرف مضاف الیہ ہے جیسے کہا جاتا ہےسارق اللیلیعنی رات میں چوری کرنے والا رات کا چور ۔مطلب یہ ہے کہ حضور نے انہیں اجازت دی یا حکم دیا کہ چار ماہ تک امن و امان سے اسلامی ممالک اور مسلمانوں میں گشت و چکر لگائیں۔
۵؎یعنی دل سے مسلمان ہوگئے اور اسلام ان کی رگ رگ میں سرایت کر گیا اسلام کی شوکت دیکھ کر اور مسلمانوں کی ملاقات سے ورنہ وہ تو مسلمان پہلے ہی ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ صفوان اپنی بیوی کے دو ماہ بعد اسلام لائے۔(مرقات)
۶؎یا تو پہلے ہی نکاح یا نئے نکاح سے جوان کے ساتھ کیا گیا لہذا یہ حدیث صراحۃً نہ ہمارے خلاف ہے نہ شوافع کے(مرقات)نیز یہاں اختلاف دارین نہ ہوا کہ صفوان دارا لکفر میں مقیم نہ ہوئے تھے صرف مکہ معظمہ سے بھاگ کر وہاں پناہ گزین ہوگئے تھے ورنہ ایسی صورت میں کہ زوجہ اسلام قبول کرے خاوند کافر رہے اختلاف دارین سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔
۷؎یعنی اسلام کی شوکت مسلمانوں کی قوت دیکھ کر اپنی جان کے خوف سے بھاگ گئے۔خیال رہے کہ جناب عکرمہ ان میں سے ہیں جن کے متعلق اعلان ہوگیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کردیئے جائیں جیسا کہ فتح مکہ کے واقعہ میں آتا ہے وحشی، ابن حنظل، عکرمہ،ہندہ بھی ان ہی میں سے ہیں۔
۸؎حق یہ ہے کہ عکرمہ یمن میں داخل نہ ہوئے تھے بلکہ ساحل پر رہے جو حجاز و یمن کی حد ہے لہذا ان میں اور ان کی بیوی میں ملک کا اختلاف نہ پایا گیا لہذا فسخ نکاح کی کوئی وجہ نہ تھی۔(فتح القدیرو مرقات)وہ جو روایات میں ہے کہ حضرت ابوالعاص ابن ربیع مکہ میں کافر ہو کر رہے اور ان کی زوجہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پاک میں مؤمنہ مہاجرہ ہو کر رہیں پھر تین یا چھ سال بعد آپ اسلام لائے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کو ان کی زوجیت میں رکھا وہاں حق یہ ہی ہے کہ حضور نے ان کا نیا نکاح کیا جیسا کہ ترمذی ابن ماجہ اور امام احمد کی روایات میں ہے اور جن روایات میں ہے کہعلی النکاح الاولوہاںعلیسببہہے کہ پہلے نکاح کی وجہ سے انکے ساتھ ہی نکاح کیا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کیا تاکہ روایات میں تعارض نہ ہو،یا یہ مطلب ہے کہ دوسرا نکاح مطابق نکاح اول کے کیا مہروغیرہ میں کوئی فرق نہیں کیا۔خیال رہے کہ حضرت زینب بنت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاوند ابوالعاص میں اختلاف دین زیادہ دس سال سے رہا کیونکہ بی بی خدیجہ اور ان کی لڑکیاں جن میں زینب بھی داخل ہیں اول تبلیغ میں ایمان لائیں اور ابوالعاص فتح مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے حضور انور نے ہجر ت سے پہلے ان کا نکاح فسخ نہ کیا کیونکہ اس زمانہ میں مشرکین سے مؤمنہ عورتوں کا نکاح حرام نہ تھا اسی لیے جب بی بی زینت مہاجرہ ہوکر مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں تو حاملہ تھی راہ میں اسقاط ہوگیا بہرحال حضرت زینب کا مؤمنہ ہوکر ابو العاص کے نکاح میں رہنا حالانکہ وہ کافرتھے اولًا اس وجہ سے تھا کہ اس وقت ایسے نکاح درست تھے پھر بعد ہجرت اختلاف دار کی وجہ سے نکاح فسخ ہوا مگر بعد میں اس نکاح کی وجہ سے تجدید نکاح کیا گیا اس کی نفیس تحقیق یہاں ہی مرقات میں دیکھئے۔
۹؎صاحب مشکوۃ کا مقصد ان احادیث سے یہ ہے کہ زوجین میں جب کفرو اسلام کا اختلاف ہوجائے تو بغیر کسی کے قید ہوئے نکاح فسخ نہیں ہوتا اگرچہ دونوں کے ملک علیحدہ ہوگئے ہوں کہ ایک داراسلام میں آجائے اور دوسرا دارحرب میں رہے یہ مذہب شافعی ہے احناف کا مذہب یہ ہے کہ دارو ملک مختلف ہوتے ہی نکاح فسخ ہوجاتا ہے، امام اعظم کی دلیل قرآنی آیات ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے: "اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّؕ-اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّۚ-فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِؕ-لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّؕ"لا ترجعوھنسے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمنہ داراسلام میں پہنچی اور اس کا کافر خاوند والا نکاح فسخ ہوا، لہذا ان احادیث کے ایسے معانی کرنے چاہئیں جو آیت قرآنیہ کے خلاف نہ ہوں وہ ہم نے ابھی عرض کردیئے۔
۱۰؎ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے،مؤرخین فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ کو اپنے امان کی خبر ملی تو خوشی سے اچھل پڑے اور بہت جلد حاضر بارگاہ ہو کر مسلمان ہوئے حضور ان کی آمد پر خوشی سے کھڑے ہوگئے، خیال رہے کہ حضور حضرت عکرمہ ابن ابوجہل، عدی ابن حاتم، زید ابن ثابت، جعفر ابن ابی طالب کی آمد پر خوشی میں کھڑے ہوئے ہیں(مرقات)حضرت فاطمہ کی آمد پر ہمیشہ کھڑے ہوجاتے تھے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3180