Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3182

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا، وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ أُمَّهَا دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شعَيْبٍ، وَهُمَا يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيما رجل نكح امرأة فدخل بها فلا يحل له نكاح ابنتها، وإن لم يدخل بها فلينكح ابنتها، وأيما رجل نكح امرأة فلا يحل له أن ينكح أمها دخل بها أو لم يدخل". رواه الترمذي وقال: هذا حديث لا يصح من قبل إسناده، إنما رواه ابن لهيعة والمثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب، وهما يضعفان في الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے صحبت کرے تو اس کی بیٹی کا نکاح حلال نہیں ۱؎اور اگر اس سے صحبت نہیں کی تو اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے ۲؎اور جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو اسے اس عورت کی ماں سے نکاح حلال نہیں اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو
۳
؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کی طرف سے صحیح نہیں هے ۴؎اسے ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح نے عمرو ابن شعیب سے روایت کیا اور وہ دونوں حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں،۵؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر ہے کہ یہاں دخول سے مراد حقیقی صحبت ہے صرف خلوت کافی نہیں جس بیوی سے صحبت کرلی جائے اس کی بیٹی حرام ہوگی، قرآن کریم فرماتاوَرَبٰٓئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ
۲
؎اس طرح کہ اولا اس بیوی کو طلاق دے پھر اس کی بیٹی سے نکاح کرے رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِنۡ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ
۳
؎اس حکم کی تائید اس آیت کریمہ سے ہے"وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ"کہ تم پر تمہاری بیویوں کی مائیں حرام ہیں یہاں بیویوں میں صحبت کی قید نہیں۔
۴
؎یعنی اس حدیث کے الفاظ اسنادًا صحیح نہیں معنی حدیث بالکل صحیح ہیں کیوں نہ ہو کہ قرآن کریم ان کی تائید کررہا ہے۔
۵
؎یعنی محدثین کے نزدیک ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح ضعیف مانے جاتے ہیں،خیال ر ہے کہ بعض محدثین نے انہیں ضعیف مانا ہے اور بہت سے محدثین انہیں ضعیف نہیں مانتے لہذا یہ حدیث ان ہی کے نزدیک ضعیف ہے جو ان راویوں کو ضعیف مانتے ہیں احناف کے نزدیک ابن لہیعہ ضعیف نہیں دیکھئے طحاوی و مرقات۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3182