Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2437

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي فَقَالَ: «زَوَّدَكَ اللّٰه التَّقْوٰى» . قَالَ: زِدْنِي قَالَ: «وَغَفَرَ ذَنْبَكَ» قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: « وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُ مَا كُنْتَ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: يا رسول الله إني أريد سفرا فزودني فقال: «زودك الله التقوى» . قال: زدني قال: «وغفر ذنبك» قال: زدني بأبي أنت وأمي قال: « ويسر لك الخير حيث ما كنت » . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا یارسول اللّٰه میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ توشہ دیجئے ۱؎فرمایا اللّٰه تمہیں پرہیزگاری کا توشہ دے ۲؎عرض کیا کچھ زیادہ دیجئے فرمایا تمہارے گناہ بخش دے عرض کیا میرے ماں باپ فدا کچھ اور عطا کیجئے ۳؎فرمایا اللّٰه تمہیں بھلائی میسر کرے تم جہاں بھی ہو ۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میرے لیے ایسے وداعیہ دعا فرمایئے کہ جو توشہ کی طرح سفر دنیا و سفر آخرت میں ساتھ رہےاور مجھے توشہ کی طرح ہر وقت کام آئے۔زادوہ زائد کھانا ہے جو مسافر کی موجودہ ضرورت سے بچا ہوا آئندہ کام آوے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقْوٰی"۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اپنے لیے توشہ دارین سمجھتے تھے اور ہر موقعہ پر آپ سے دعائیں کراتے تھے اپنی دعاؤں پر کفایت نہ کرتے تھے۔
۲
؎یعنے تمہیں دنیا میں لوگوں سے غنا دے کہ تم سوال سے بچو اور آخرت کے لیے نیک اعمال کی توفیق بخشے،بہت جامع دعا ہے۔
۳
؎یعنے ابھی فقیر کی سیری نہیں ہوئی داتا کچھ اور ملے،دنیا میں صبر بہتر،آخرت کے معاملہ میں بے صبری و حرص افضل۔شعر
حاجتے نیست مرا سیر ازیں آبِ حیات
ضاعف اللّٰه علٰی کل زمانٍ عطشی۴؎یعنی اللّٰه تعالٰی تمہیں جیتے مرتے،قبر و حشر ایسی بھلائیاں عطا فرمادے جس سے تمہیں پوری کامیابی نصیب ہو۔حیث ماکنتمیں سفر،حضر، زندگی و قبر ہر جگہ داخل ہے۔سُبْحَانَ اللّٰهِسائل کی جھولی بھردی نہ معلوم ان الفاظ سے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کیا دے دیا ہو اور سائل نے کیا کچھ لے لیا،یہ تو دینے والے اور لینے والے جانیں۔
۵
؎اسے حاکم نے اپنی مستدرک میں بھی روایت کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2437