- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2452
باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2452
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَثُرَ هَمُّهٗ فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ وَفِي قَبْضَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهٗ فِي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهٗ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهٖ فِي مَكْنُونِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ هَمِّي وَغَمِّي. مَا قَالَهَا عَبْدٌ قَطُّ إِلَّا أَذْهَبَ اللّٰهُ غَمَّهٗ وَأَبْدَلَهٗ بِهٖ فَرَجًا". رَوَاهُ رَزِينٌ.
وعن ابن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من كثر همه فليقل: اللهم إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك وفي قبضتك ناصيتي بيدك ماض في حكمك عدل في قضاؤك أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك أو علمته أحدا من خلقك أو استأثرت به في مكنون الغيب عندك أن تجعل القرآن قلبي، وجلاء همي وغمي. ما قالها عبد قط إلا أذهب الله غمه وأبدله به فرجا". رواه رزين.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کے رنج و غم زیادہ ہو جائیں وہ یہ پڑھے ۱؎الٰہی میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا اور تیری بندی کا بچہ ہوں ۲؎اور میری پیشانی تیرے قبضہ میں ہے ۳؎مجھ میں تیرا حکم جاری ہے میرے بارے میں تیرا فیصلہ عین انصاف ہے ۴؎میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کی برکت سے جو تو نے اپنا رکھا یا جو نام اپنی کتاب میں اتارا یا جو نام اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا جو نام اپنے پاس پردہ غیب میں پوشیدہ یہ مانگتا ہوں ۵؎کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے رنج و غم کا دفعیہ بنادے ۶؎یہ کلمات کوئی بندہ نہیں کہتا مگر اللّٰه اس کا غم دور کردیتا ہے اور اس کے عوض کشادگی دیتا ہے ۷؎(رزین)۸؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی رنج و غم میں گھر ا ہوا آدمی یہ دعا پڑھا کرے،مراد دنیاوی رنج و غم ہیں جن کے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے آخرت کے رنج و غم تو اللّٰه کی نعمت ہیں ان کے دفع کی کوشش نہ کرے بلکہ ان کے بقا کی دعا مانگے،عشق خدا اور رسول کا رنج و غم تو مقصد حیات ہے۔شعر
ترا غم رہے سلامت میرے دل کو کیا کمی ہے
یہ ہی میری بندگی ہے یہ ہی میری زندگی ہے
ترا درد میرا درماں ترا غم مری خوشی ہے
مجھے درد دینے والے تیری بندہ پروری ہے
۲؎یعنی خدایا میں تین طرح تیری رحمت کا حقدار ہوں ایک یہ کہ میں خود تیرا بندہ ہوں۔دوسرے یہ کہ میرا باپ بھی تیرا بندہ ہے۔تیسرے یہ کہ میری ماں بھی تیری بندی اور بارگاھِ عالی کی لونڈی ہے پھر ان نسبتوں کے ہوتے ہوئے تیرے در سے کیسے محروم رہوں گا۔
۳؎یعنی میں تیرے ملک و تصرف میں ہوں۔ پیشانی بول کر ذات مراد لیتے ہیں یہ جملہ قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے"مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِھَا"۔
۴؎یعنی میرے اختیاری اعمال اور غیر اختیاری حالات پر تیری قضا و قدر نافذ ہے اور جو کچھ تو نے مجھ پر حکم نافذ فرمایا ہے وہ عین عدل و انصاف ہے۔خیال رہے کہ یہاں حکم سے مراد تکوینی حکم ہے نہ کہ تشریعی۔حکم و امر میں بڑا فرق ہے،دنیا میں سب کچھ رب تعالٰی کے حکم قضا و قدر سے ہورہا ہے اس کے امر سے نہیں ہورہا ہے۔سب کو ایمان لانے،نماز پڑھنے کا امر ہے مگر بہت لوگ نہ ایمان لاتے ہیں نہ نماز پڑھتے ہیں،نیز یہاں عدل سے مراد ظلم کا مقابل ہے نہ کے فضل کا یعنی تو ظلم سے پاک ہے۔
۵؎اس عبارت سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رب تعالٰی کے نام بہت ہیں صرف ۹۹ نہیں جن احادیث میں ۹۹ نام مذکور ہیں وہاں مقصد یہ ہے کہ جو ان ناموں کا وظیفہ پڑھے گا بخشا جائے گا،یہ مطلب نہیں کہ رب کے صرف اتنے ہی نام ہیں۔ دوسرے یہ کہ اسماء الہیہ تین قسم کے ہیں:بعض وہ جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہوئے اور عام مؤمنین نے جان لیے اور بعض وہ جو صرف انبیائے کرام،فرشتوں یا بعض اولیاء کو الہامًا سکھائے گئے اور بعض جو درمکنون کی طرف پردۂ غیب میں رکھے گئے کسی کو نہ بتائے گئے۔تیسرے یہ کہ اسماء الہیہ کی برکت ان کے توسل سے دعامانگنا چاہیےخواہ ہم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو،ا یسے اللّٰه کے مقبول بندوں،نبیوں،ولیوں کی طفیل دعاء مانگنی چاہیے ہمیں ان کی تفصیل معلوم ہو یا نہ ہو۔
۶؎یعنی جیسے موسم بہار زمین کی تمام خشکی بے رونقی دور کرکے اسے طرح طرح کی زینتوں سے آراستہ کردیتاہے ایسے ہی قرآن شریف کے ذریعے میرے دل کے رنج و غم،تاریکی سیاہی،گناہوں کی طرف میلان،حرص و ہوس،حسد دور فرما کر اس میں ایمان و عرفان،خوف خدا،عشق جناب مصطفےٰ کے پھل پھول لگادے۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن شریف مؤمن کے دل کی بہار ہے ایسے ہی صاحب قرآن صلی اللّٰہ علیہ و سلم اس بہار کی جان ہیں۔
۷؎اس طرح کہ رنج و غم کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور دل میں خوشی و راحت کی بارشیں ہوتی ہیں۔
۸؎اسے احمد ابن حبان حاکم ابو یعلے موصلی،بزاز،طبرانی،ابن ابی شیبہ نے بھی انہی ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مرفوعًا روایت کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2452