- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2434
باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2434
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهٗ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وضَعَ رِجْلَه فِي الرِّكابِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ فَلَمَّا اسْتَوٰى عَلٰى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ ثَلَاثًا وَاللّٰهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟قَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهٖ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَقُولُ: يَعْلَمُ أَنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
وعن علي: أنه أتي بدابة ليركبها فلما وضع رجله في الركاب قال: بسم الله فلما استوى على ظهرها قال: الحمد لله ثم قال: (سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون)ثم قال: الحمد لله ثلاثا والله أكبر ثلاثا سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ثم ضحك فقيل: من أي شيء ضحكت يا أمير المؤمنين؟ قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع كما صنعت ثم ضحك فقلت: من أي شيء ضحكت يا رسول الله؟قال:" إن ربك ليعجب من عبده إذا قال: رب اغفر لي ذنوبي يقول: يعلم أنه لا يغفر الذنوب غيري " رواه أحمد والترمذي وأبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کی خدمت میں سوار ی کے لیے گھوڑا لایا گیا ۱؎آپ نے جب رکاب میں پیر رکھا ۲؎تو فرمایا بسم اللّٰه جب اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایاالحمداللّٰہ۳؎پھر فرمایا پاک ہے وہ رب جس نے اسے ہمارا تابعدار بنادیا اور ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۴؎پھر تین بار کہاالحمداللّٰہاور تین بار اللّٰه اکبر پاک ہے تو میں نے یقینًا اپنی جان پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا ۵؎پھر آپ ہنسے ۶؎عرض کیا گیا اے امیر ا لمؤمنین آپ کس چیز سے ہنس رہے ہیں تو فرمایا میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے وہ ہی کیا جو میں نے کیا پھر آپ ہنسے ۷؎میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا کہ تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے ۸؎جب وہ کہتا ہے خدایا میرے گناہ بخش دے، رب فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہ بخشتا نہیں ۹؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎لغۃًدابۃہر جانور کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰه رِزْقُھَا"مگر اصطلاح میںدابۃگھوڑے کو کہا جاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے آپ کی خدمت میں گھوڑا حاضر کیا گیا تھا۔
۲؎رکاببمعنی آلہ رکوب جس میں پاؤں رکھ کر سوار ہوتے ہیں۔
۳؎یہ حمد سواری ملنے کے شکریہ پر ہے یعنی خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری آسانی کے لیے ہم کو سواری بخشی،بہت لوگ مجبورًا پیدل سفر کرتے ہیں۔
۴؎یہ قرآن شریف کی آیت ہے،اس کی شرح ابھی فصل اول میں گزر گئی۔خلاصہ یہ ہے کہ مولٰی ان قوی جانوروں کا ہم کمزور انسانوں کے قبضہ میں آجانا تیری مہر بانی سے ہے ہم تو مچھر مکھی کو تابع نہیں کرسکتے،پھر ہم پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہم کو خود اپنے ہاتھ پاؤں پر بھی اختیار و قبضہ نہ رہے گا یعنی بعد موت ہم کو وہ وقت یاد ہے،ہم اس نعمت پر متکبر نہیں تیرے شکر گزار ہیں۔سبحان اللّٰه! کیسی جامع اور برمحل دعا ہے۔
۵؎یعنی میری خطاؤں و گناہوں کے باوجود تو نے مجھے یہ سواری وغیرہ کی نعمتیں بخشیں تو مجھے امید ہے کہ تو اپنے کرم سے مجھے معافی بھی دے دے گا میں نے وہ ہی کیا جو گنہگار کرتے ہیں تو وہ ہی کر جو ستارو غفار کی شان ہے۔
۶؎یعنی مسکرائے ٹھٹھا نہ لگایا،مسکرانا اظہار خوشی کے لیے ہوتا ہے ٹھٹھا دل کی غفلت سے اسی لیے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم مسکراتے بہت تھے ٹھٹھا کبھی نہ لگا۔
۷؎یعنی میں قولی و عملی سنتوں پر عمل کررہا ہوں اس موقعہ پر یہ دعا مانگنا سنت قولی ہے او راس وقت تبسم کرنا سنت عملی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے حالات کی نقل کرتے تھے اسے ثواب سمجھتے تھے اور یہ بھی پتہ لگا کہ حضور علیہ السلام کی ہر سنت پر عمل کرنا باعث ثواب ہے حتی کہ ہنسنا اور رونا بھی۔
۸؎خلاصہ یہ ہے کہ میں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی موافقت میں ہنس رہا ہوں اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے رب تعالٰی کی موافقت میں تبسم فرمایا تھا تو یہ عملی سنت رسول بھی ہے اور سنت الہیہ بھی،رب تعالٰی تعجب کرنے،ہنسنے سے پاک ہے اس لیے وہاں ان الفاظ کے معنے ہوتے ہیں خوش ہونا۔رب تعالٰی کی رضا خوشی اس کی شان کے لائق ہے،ہماری ر ضا و خوشی ہماری حیثیت کے موافق ہے۔
۹؎معلوم ہوا کہ رب تعالٰی اس بندے سے بہت راضی و خوش ہوتا ہے جو اپنے کو بے کس و گنہگار جانے اور رب تعالٰی کو قادر و غفار جانے،یہ ہی حال بارگاھِ مصطفوی کا ہے کہ وہاں بھی بے کسی پر رحم بہت ہوتا ہے۔شعر
دیکھی جو بے کسی تو انہیں رحم آگیا
گھبرا کے ہوگئے وہ گنہگار کی طرف
خیال رہے کہ گناہ تو اللّٰه تعالٰی ہی بخشتا ہے،اس کے محبوب بندے شفاعت تو کرتے ہیں مگر براہ راست گناہ بخشتے نہیں مگر حقوق بندے بھی معاف کرسکتے ہیں،میں اپنا قرض یا خون معاف کرسکتا ہوں لہذا حدیث بالکل واضح ہے جہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے لوگوں کے گناہ یا کفارے معاف فرمادیئے وہ باذن الٰہی تھے،ان معافیوں کی بہت مثالیں ہیں جو ہم نے اپنی کتاب "سلطنت مصطفی"میں بیان کی ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2434