Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2424

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ:« سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰه وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ" ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا كان في سفر وأسحر يقول:« سمع سامع بحمد الله وحسن بلائه علينا، ربنا صاحبنا، وأفضل علينا عائذا بالله من النار" ».رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم جب سفرمیں ہوتے اور سویرا پاتے تو یہ فرماتے سننے والے سن لیں کہ ہم اللّٰه کی حمد کرتے ہیں اس کی ہم پر اچھی نعمت ہے ۱؎اے ہمارے رب تو ہمارا ساتھی ہو جا اور ہم پر فضل کر۲؎آگ سے اللّٰه کی پناہ لیتا ہوں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کی قرأت اور ترجمے میں شارحین نے بہت موشگافیاں کی ہیں۔فقیر صرف ایک مطلب عرض کرتا ہےسمّعیا تو تفعیل کا ماضی ہے یا بابعلمکا اور بہرحال ماضی بمعنی خبر ہے یعنی ہر سننے والا ہماری حمد سن لے یا ہر سننے والا ہماری حمد دوسروں کو سنا دے تاکہ کل قیامت میں گواہی دے۔بلاءسے مراد وہ نعمتیں ہیں جو بغرض امتحان ہم کو دی گئیں اورحسنکا عطفحمدپر ہے اور یہاں اقرار پوشیدہ ہے یعنی ہر سننے والا ہماری حمد بھی سن لے اور رب تعالٰی اچھی آزمائش یعنی اس کی نعمتوں کا اقرار بھی سن لے کہ ہم نعمتوں کے اقراری ہیں ان پر شاکر ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً"یہ معنے آسان بھی ہیں اور بہتر بھی،باقی اپنے حبیب کی مراد کو رب جانے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے ایمان و اعمال پر لوگوں بلکہ پانی و ذروں کو گواہ بنالینا بہتر ہے کہ کل قیامت میں ان کی گواہی کام دے گی،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہسمعخبر ہی ہو اور معنی یہ ہوں کہ ہماری حمد ڈھکی چھپی نہیں بلکہ سننے والوں نے سنی ہے وہ خوب جانتے ہیں۔
۲
؎یعنی الٰہی تو ہمارا حافظ و ناصر ہوجا اور ہم پر اپنا فضل و کرم دائم قائم رکھ۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی اس دعا کا جز ہےاور حضور علیہ السلام کا فرمان یعنی میں آگ سے اللّٰه کی پناہ لیتے ہوئے یہ کہہ ر ہا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ یہ راوی کا کلام ہو یعنی حضور علیہ السلام رب کی پناہ لیتے ہوئے یہ کلمات فرماتے تھے۔عائذامصدر نہیں بلکہ اسم فاعل ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2424