Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2455

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهٗ ؟ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ قَالَ: «نَعَمْ اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» قَالَ: فَضَرَبَ اللّٰه وُجُوهَ أَعْدَائِهٖ بِالرِّيحِ وَهَزَمَ اللّٰهُ بِالرِّيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قلنا يوم الخندق: يا رسول الله هل من شيء نقوله ؟ فقد بلغت القلوب الحناجر قال: «نعم اللهم استر عوراتنا وآمن روعاتنا» قال: فضرب الله وجوه أعدائه بالريح وهزم الله بالريح. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے خندق کے دن عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کیا کوئی وظیفہ ایسا ہے جو ہم پڑھیں دل گلوں میں پہنچ گئے ۱؎فرمایا ہاں اے اللّٰه ہمارے عیب ڈھک لے ہمارے خوفوں کو امن میں بدل دے ۲؎فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے ہوا کے ذریعہ اپنے دشمنوں کے منہ پھیر دیے،اللّٰه نے انہیں ہوا کے ذریعے بھگادیا۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنگ احزاب کے موقع پر ہم خندق کھودنے میں مشغول تھے بھوک و خوف سے پریشان تھے،بیرونی اندرونی دشمنوں سے بہت تنگ آچکے تھے تب یہ عرض کیا۔معلوم ہوا کہ اپنے رنج و غم حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے عرض کرنا نہ تو شرک و کفر ہے نہ بے صبری،اگر مریض حکیم سے شکایت نہ کرے تو شفا کیسے پائے۔
۲
؎یہاں عیب سے مراد گناہ نہیں بلکہ دشمن کا خوف اور دل کی گھبراہٹ ہے جس کا اظہار نہیں کیا جاتا تاکہ دشمن دلیر نہ ہوجائے یعنی ہماری موجودہ کمزوری چھپالے،دشمن اس پر مطلع نہ ہونے پائے اور گھبراہٹ کے اسباب دور فرما کر دلوں میں امن پیدا فرمادے۔ خیال رہے کہ امن اللّٰه کی بڑی نعمت ہے۔
۳
؎سبحان اللّٰه! یہ ہوا اس دعا کا اثر کہ رب تعالٰی نے ابابیل سے فیل مروا دیئے،تیز ہوا سے اتنے بڑے لشکر جرّار یعنی کفار کو بھگادیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2455