Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2450

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلّٰى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلْتُهٗ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ: " إِنْ تُكُلِّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابَعًا عَلَيْهِنَّ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تُكُلِّمَ بِشَرٍّ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ: سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ". رَوَاهُ النَّسَائِيّ

وعن عائشة قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا جلس مجلسا أو صلى تكلم بكلمات فسألته عن الكلمات فقال: " إن تكلم بخير كان طابعا عليهن إلى يوم القيامة وإن تكلم بشر كان كفارة له: سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك ". رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی جگہ بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے ۱؎میں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو فرمایا اگر اچھی بات کی جائے ۲؎تو ان پر روز قیامت مہر ہوجائے اور اگر بری بات کی گئی ہو تو اس کا کفارہ ہوجائیں ۳؎الٰہی تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ۴؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎فارغ ہو کر بلکہ وہاں سے اٹھتے وقت یہ کلمات کہتے تھے۔(مرقات)
۲
؎یا تواَنْالف کے زبر سے ہے اورتکلمتوكکے پیش سے یعنی ان کلمات کا بول لینا،پڑھ لینا یااِنالف کے کسرہ(زیر)سے اورتکلمتاوركکے زبر سے ہے یعنی اے عائشہ اگر تم یہ کلمات پڑھ لیا کرو،پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔
۳
؎یعنی جو دعائیہ کلمے میں پڑھا کرتا ہوں ان کی تاثیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اچھی باتیں کرکے یا کوئی عبادت کرکے یہ کلمات پڑھ لے تو یہ کلمات ان باتوں یا عبادتوں کے لیے مثل مہر کے ہوں گے کہ تا قیامت محفوظ رہیں گے اور حساب کے وقت وہ مقبول ہوں گے خود وہ کلمات بھی اور وہ عبادت یا دعا بھی جن پر یہ کلمات پڑھے گئے اور اگر کوئی بری باتیں بول کر یہ کلمات آخر میں کہہ لے تو یہ کلمات ان بری باتوں کا کفارہ بن جائیں گے کہ ان کی برکت سے رب تعالٰی ان برائیوں پر پکڑ نہ فرمائے گا اس لیے ہم ہر مجلس کے آخر میں یہ کلمات پڑھ لیتے ہیں۔
۴
؎یہ ان کلمات کا بیان ہے جن کا فائدہ ابھی بیان ہوا۔ استغفار و توبہ کا فرق بیان ہوچکا ہے کہ گناہ سے معافی مانگنے کا نام استغفار ہےاور عیوب سے معافی مانگنے کا نام تو بہ،یا بڑے گناہوں سے معافی مانگنا استغفار ہے چھوٹے گناہوں سے معافی کا نام توبہ،یا کھلے گناہوں سے معافی استغفار اور چھپے گناہوں سے معافی توبہ وغیرہ،یہ بہت جامع دعا ہے جس میں رب تعالٰی کی حمد و ثناء بھی ہے اور توبہ و استغفار بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2450