Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2456

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هٰذِهٖ السُّوقِ وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيْبَ فِيْهَا صَفْقَةً خَاسِرَةً.رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

وعن بريدة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل السوق قال: بسم الله اللهم إني أسألك خير هذه السوق وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك أن أصيب فيها صفقة خاسرة.رواه البيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب بازار میں داخل ہوتے تو کہتے اللّٰه کے نام سے الٰہی میں تجھ سے اس بازار کی خیر اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں ۱؎ا ور اس بازار کی شر اور جو اس میں ہے اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۲؎الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ گھاٹے کا سودا کروں۳؎(بیہقی دعوات کبیر)

شرح حدیث

۱∞؎نفعے کے سود ے حلال روزی اور دل میں غفلت کا نہ پیدا ہونا بازار کی خیر ہے،یہ تمام چیزیں رب تعالٰی سے مانگے،بازار ہی سے قوم و ملک کا بقا ہے۔
۲
؎نقصان کی تجارت،حرام روزی،وہاں جھوٹ بول کر سودے بیچنا،غافل ہوجانا،بازار کی شر ہے اس لیے بازار کو بدترین جگہ فرمایا گیا۔
۳
؎دینی گھاٹا یا دنیاوی گھاٹا دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی سے پناہ مانگنی چاہیے صدقہ و خیرات نافع ہے مگر مہنگی چیز بیچنا یا سستی فروخت کردینا گھاٹا کھا کر حماقت بھی ہےاور باعث نقصان بھی جس کا نہ دنیا میں نفع ہے نہ آخرت میں۔اسے حاکم اور ابن سنی نے بھی روایت کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2456