Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2451

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن قَتَادَة: بَلَغَهٗ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَاٰى الْهِلَالَ قَالَ: «هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالذِي خَلَقَكَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرٍ كَذَا وَجَاء بِشَهْرٍ كَذَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن قتادة: بلغه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا راى الهلال قال: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» ثلاث مرات ثم يقول: «الحمد لله الذي ذهب بشهر كذا وجاء بشهر كذا» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت قتادہ سے انہیں خبر پہنچی ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے تو فرماتے بھلائی و ہدایت کا چاند ہو ۱؎بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو،بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو تین بار فرماتے اس پر ایمان لایا جس نے تجھے پیدا کیا ۲؎پھر فرماتے اس رب کا شکر ہے جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لایا ۳؎(ابوداؤد)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خدایا یہ مہینہ ہمارے لیے نیک اعمال کرنے کی توفیق اور گناہوں سے بچنے کی توفیق لے کر آیا ہو مہینے اور وقت میں بھی تاثیریں ہیں جیسے بعض وقت گرم ہوتے ہیں،بعض سرد،بعض زمانہ بیماریوں کے ہوتے ہیں،بعض صحت کے،ایسے ہی بعض اوقات گناہوں کے ہوتے ہیں،بعض نیکیوں کے اس لیے چاند دیکھنے پر یہ دعا پڑھتے تھے،جس چیز کی ابتداء اچھی ہو اس کی بقاء و انتہا بھیان شاءاللّٰهاچھی ہو گی۔مہینہ کی ابتداء اگر دعا سے ہے توان شاءاللّٰهسارا ماہ خیر رہے گی۔ھلالمرفوع ہےھذاکی خبر،یعنےان شاءاللّٰهیہ بھلائی کا چاند ہےیا خدایا یہ بھلائی کا چاند ہو۔
۲
؎اس میں چاند کے پجاریوں کی تردید ہے یعنی اے چاند میں تجھ پر ایمان نہیں لایابلکہ اس رب پر ایمان لایا ہوں جو تیرا اور میرا خالق ہے۔
۳
؎دونوں جگہ فلاں کی جگہ مہینے کا نام لیتے تھے،چونکہ قریبًا سارے دینی کام چاند و سورج سے وابستہ ہیں اس لیے ان اوقات کے بخیریت جانے آنے پر خدا کا شکر کرنا چاہیے،زکوۃ،حج،بیوہ عورتوں کی عدت،دودھ پلانے کی مدت چاند ہی سے وابستہ ہیں،نماز کے اوقات،سحری و افطار وغیرہ سورج کی رفتار سے وابستہ ہے۔
۴
؎اسے طبرانی نے حضرت نافع ابن خدیج سے کچھ فرق سے مرفوعًا روایت کیا اور ابن ابی شیبہ نے حضرت علی کرم اللّٰه وجہہ سے موقوفًا مگر کچھ فرق سے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2451