Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2419

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَسَلُوا اللّٰه مِنْ فَضْلِهٖ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَإِنَّهٗ رَاٰى شَيْطَاناً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا سمعتم صياح الديكة فسلوا الله من فضله فإنها رأت ملكا وإذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم فإنه راى شيطانا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللّٰه سے اس کا فضل مانگو ۱؎کیونکہ مرغ فرشتہ کو دیکھتا ہے ۲؎اور جب تم گدھے کا ہینگنا سنو تو مردود شیطان سے اللّٰه کی پناہ مانگوکیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں ہرمرغ کی ہر آواز مراد ہے جسے ہم مرغ کا اذان دینا کہتے ہیں۔بعض لوگوں نے تہجد کے وقت کی مرغ کی آواز مراد لی،بعض نے صبح صادق کے وقت کی آوازمگر پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ حدیث میں کوئی قید نہیں،مرغ کی ہر اذان پر دعا مانگنا چاہیے۔
۲
؎یعنی مرغ رحمت کا فرشتہ دیکھ کر بولتا ہے،اس وقت کی دعا پر فرشتے کے آمین کہنے کی امید ہے۔بعض روایات میں ہے کہ عرش اعظم کے نیچے ایک سفید مرغ ہے اس کی آواز پر زمین کے مرغ بولتے ہیں۔واللّٰه اعلم!(اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مجلس میں دعا کرنی چاہیےکیونکہ جب بزرگوں کے ذکر پر اللّٰه کی رحمت اترتی ہے تو ان لوگوں کی موجودگی تو بڑی ہی رحمت کا باعث ہے۔(مرقات)اولیاءاللّٰه فرشتوں سے افضل ہیں،جب فرشتے کی موجودگی سے دعائیں قبول ہوتی ہیں تو اولیاءاللّٰه کی موجودگی یقینًا باعث قبولیت ہے۔معلوم ہوا کہ جانور غیبی فرشتوں کو دیکھ لیتے ہیں۔
۳
؎یعنی گدھا کسی خاص شیطان کو دیکھ کر بولتا ہے اکثر اس کا بولنا شہوت میں ہوتا ہے،یہ اعلان کرکے مادہ سے صحبت کرتا ہے اس وجہ سے بھی یہ آواز خبیث ہے،رب تعالٰی نے اس کے متعلق فرمایا:"اِنَّ اَنۡكَرَ الْاَصْوٰتِ لَصَوْتُ الْحَمِیۡرِ"بدترین آواز گدھے کی ہے اور فرمایا:"لَهُمْ فِیۡھَا زَفِیۡرٌ وَّشَھِیۡقٌ"دوزخیوں کی آواز گدھوں کی سی ہوگی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بروں کی آمد پر اور بروں کو دیکھ کراعوذ بِاللّٰهِپڑھنی چاہیے۔دوسرے یہ کہ بری بکواس کی آواز گدھے کی سی آواز ہے،غیبت،جھوٹ،گانے بجانے،بے دینی کی تقریریں اسی میں داخل ہیں کہ یہ سب شہوت نفسانی کی آواز ہیں۔
۴
؎یہ حدیث ابوداؤد،ترمذی،نسائی،حاکم نے بھی روایت کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2419