Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2441

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ: «اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي موسى: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا خاف قوما قال: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم » . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی قوم سے خطرہ محسوس فرماتے ۱؎تو کہتے اے اللّٰه ہم ان کے مقابل تجھے کرتے ہیں ۲؎اور ان کی شر سے تیری پناہ لیتے ہیں ۳؎(احمد،ابوداؤد)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ آپ کو پتہ چلتا کہ فلاں قوم ہمارے خلاف سازش یا جنگی تیاری کررہی ہے۔خیال رہے کہ خوف بہت طرح کا ہے خوف اطاعت وبندگی صرف رب تعالٰی کا ہی ہونا چاہیے اور خوف نفرت شیطان وغیرہ دشمنوں سےاور خوف بمعنی خطرہ تکلیف ہر خطرناک چیز سے ہوسکتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کو وادئ سینا میں سانپ سے خوف ہوا،آپ نے فرعونیوں سے خوف کیا یہ واقعات اس آیت کے خلاف نہیں "لَاخَوْفٌ عَلَیۡھِمْ"کہ وہاں خوف اطاعت مراد اس ہی کی نفی ہے اور خوف بمعنے خطرہ۔
۲
؎نحرسینہ کو بھی کہتے ہیں اور جانور ذبح کرنے کو بھی"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ"۔چونکہ دشمن کے مقابلہ میں سینہ تان کر ہی کھڑے ہوتے ہیں اس مقابلہ کو اس لفظ سے تعبیر فرمایا،نیز اس میں نیک فال بھی ہے کہ خدایا دشمن کو ذبح کردے کہ وہ ہمارے مقابلہ کے لائق ہی نہ رہے۔
۳
؎یعنی ہمارے اور دشمن کی شر کے درمیان تو آڑ ہوجا تاکہ ان کی شر ہم تک نہ پہنچ سکے،یہ دعا بہت ہی مجرب ہے،ایک دشمن کے مقابل بھی کام آتی ہے اور بہت دشمنوں کے مقابل بھی فقیراس کا عامل ہے اور اس کی برکت سے شر اعدا سے محفوظ ہے۔
۴
؎اسے نسائی،ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیں۔حصن حصین شریف میں ہے دشمن کے خوف کے وقت"لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ"پڑھنا بڑی امان ہے۔امام نووی نےکتاب الاذکارمیں فرمایا کہلِاِیۡلٰفِکو بہت اولیاءاللّٰه نے آزمایا ہے بہت مجرب ہے۔حضرت زید ابن علی عن عتبہ ابن غزوان عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم روایت،نیز حصن حصین شریف میں اسے نقل کیا کہ جب مدد درکار ہو خصوصًا سفر میں تو کہےیَا عِبَادَاللّٰه اَعِیْنُوْنِیْاے اللّٰه اے بندو میری مدد کروان شاءاللّٰهبہت جلد مدد پہنچے گی،کہ بعض اللّٰه کے غیبی بندے اس پر مامور ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ یہ حدیثیا عباداللّٰهحدیث حسن ہے ومشائخ کی مجرب،مسافروں کو اس کی بہت ضرورت ہے۔معلوم ہوا کہ اللّٰه کے بندوں کو مدد کے لیے پکارنا بھی سنت ہے اور ان سے مدد لینا بھی سنت،یہ شرک نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2441