Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2444

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَجَ الرَّجُلُ بَيْتَهٗ فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا وَعَلَى اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا ثُمَّ لْيُسَلِّمْ عَلٰى أَهْلِهٖ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي مالك الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا ولج الرجل بيته فليقل: اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وعلى الله ربنا توكلنا ثم ليسلم على أهله ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت کہہ لے ۱؎الٰہی میں تجھ سے داخلے کی اور نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں اللّٰه کے نام سے ہم داخل ہوئے اور اپنے رب اللّٰہ پر ہم نے بھروسہ کیا پھر گھر والوں کو سلام کرے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اپنے گھر سے مراد اپنے رہنے کا گھر ہے خواہ ملکیت سے ہو یا کرایہ سے اور خواہ عارضی ہو یا دائمی،لہذا جو شخص سرائے کے کسی حجرے میں مع بال بچوں یا دوستوں کے شب بھر کے لیے مقیم ہو وہ بھی داخل ہوتے وقت یہ عمل کرے۔
۲
؎شیخ عبداللّٰه نے اشعۃ اللمعات میں بیان فرمایا کہ اگر گھرمیں لوگ ہوں تو انہیں سلام کرے،اگر خالی ہو تو فرشتوں کو سلام کی نیت سے یہ کہےالسلام علی عبادہ الصالحین۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خالی گھر میں جاتے وقت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سلام عرض کرے۔(از شفاء شریف)ابواؤد شریف کی روایت میں ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت کہےبسم اللّٰه والسلام علٰی رسول اللّٰہ۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق" جلد اول میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2444