- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2448
باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2448
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا قُلْتَهٗ أَذْهَبَ اللّٰه هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلٰى قَالَ: " قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ". قَالَ: فَفَعَلْتُ ذٰلِكَ، فَأَذْهَبَ اللّٰهُ هَمِّي، وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رجل: هموم لزمتني وديون يا رسول الله قال: «أفلا أعلمك كلاما إذا قلته أذهب الله همك وقضى عنك دينك؟» قال: قلت: بلى قال: " قل إذا أصبحت وإذا أمسيت: اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وأعوذ بك من العجز والكسل، وأعوذ بك من البخل والجبن، وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال". قال: ففعلت ذلك، فأذهب الله همي، وقضى عني ديني. رواه أبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه مجھے غم و قرض چمٹ گئے ۱؎فرمایا تو کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھادوں کہ جب تم اسے پڑھ لو تو اللّٰه تمہارے غم مٹادے اور تمہارا قرض اتار دے ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں ضرور،فرمایا روزانہ صبح اور شام کے وقت یہ پڑھ لیا کرو ۳؎الٰہی میں رنج و غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۴؎اور عاجزی و سستی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎اور کنجوسی و بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۶؎اور قرض کے چھاجانے اور لوگوں کے غالب آجانے سے تیری پناہ لیتا ہوں ۷؎فرماتے ہیں میں نے یہ عمل کیا تو اللّٰه نے میرا غم مٹا دیا اور میرا قرض ادا کردیا ۸؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
ا∞؎مرقات نے فرمایا کہ اس عرضی کا مقصود رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے استغاثہ یعنی طلب مدد اور فریاد کرنا ہے یعنی مجھے ایسے بڑے غم و قرض نے گھیر لیا جو کسی طرح دفع نہیں ہوتے،آپ سے فریاد ہے کیوں کہ آپ خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ عظمیٰ ہیں،انہیں آپ کا وسیلہ عظمٰی ہی دور کرسکتا ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ مصیبتوں میں حضور علیہ السلام کی پناہ لینا حضور علیہ السلام سے مدد مانگنا سنت صحابہ ہے شرک نہیں۔
۲؎یعنی اس دعا کی برکت اور میرے وسیلے اور میری تعلیم کے اثر سے رب تعالٰی تمہارے رنج و قرض سب کچھ دور کردے گا،کام رب ہی کرتا ہے مگر وسیلہ کے ذریعہ سے۔بزرگوں سے حاصل کی ہوئی دعاؤں میں دو تاثیریں ہوتی ہیں:الفاظ کی تاثیر اور ان کی زبان کی تاثیر،تلوار کسی کی سان پر رکھو،تیز کرو پھر اس سے وار کرو۔
۳؎صبح شام سے مراد یا تو بعد نماز فجر و مغرب کے اوقات میں یا ہمیشہ پڑھنا۔(مرقات)صوفیاء خاص ضرورت پر ہر نماز کے بعد ایک ایک بار یہ دعا پڑھا کرتے ہیں۔
۴؎ھم وحزنیا تو ہم معنے ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے،کیا فرق ہے؟اس میں بہت گفتگو ہے۔صحیح تر یہ ہے کہ آئندہ مصیبت کے خطرہ کوھمکہتے ہیں اور گزشتہ نازل شدہ مصیبت کی تکلیف کوحزناسی لیے پختہ ارادے کوھمکہا جاتا ہے "وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ"یا تکلیف دہ چیز واقع ہوجانے پر جو صدمہ ہے وہھماور کسی مطلوب کے فوت ہوجانے پر صدمہحزن۔ واللّٰه اعلم!بہرحال یہ دعا بہت جامع ہے۔
۵؎یعنی نیکی پر قادر نہ ہونے اور قادر ہو کر اس کے کرنے میں بوجھل ہوجانے سے تیری پناہ،عجز و کسل میں یہ ہی فرق ہے،نیکی پر قدرت بھی اللّٰه کی رحمت ہےاور قدرت کے بعد کرلینے کا موقعہ مل جانا یعنی توفیق بھی اس کا کرم۔
۶؎صدقات واجبہ،صدقات نفلیہ نہ ادا کرنا،سائل کو بھیک کبھی نہ دینا،مہمان نوازی نہ کرنا،حقوق مالیہ ادا نہ کرنا،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا نام پاک سن کر درود شریف نہ پڑھنا وغیرہ بخل ہے اور تبلیغ کی ہمت نہ ہونا،جہاد میں بزدلی آ جانا،رزق کے معاملہ میں اللّٰه پر توکل نہ ہونا،جبنیعنی بزدلی ہے۔مسلمان بھائی سے لڑنے کی ہمت نہ کرنابزدلی نہیں،فضول خرچی سے بچنا بخل نہیں،آج لوگوں نے سخاوت و فضول خرچی یوں ہی بخل و کفایت شعاری،یوں ہی بہادری اور ایذاء رسانی،یوں ہی بزدلی و نرمی دل میں فرق کرنا چھوڑ دیا۔
۷؎خیال رہے کہ نفس قرض برا نہیں قرض تو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی لیا ہے غلبہ دین برا ہے جس کے ادا کی صورت نظر نہ آئے یا جو مقروض کو ذلیل کردے یا جس سے مقروض جھوٹ بولنے وعدہ خلافی کرنے پر مجبور ہوجائے اسی لیے یہاں غلبہ دین کا ذکر فرمایا قہر رجال میں یا تو قرض خواہ ہوں کا غلبہ یا بادشاہ کا ظلم یا ظالموں کا گھیر لینا مراد ہے اللّٰه تعالٰی ہر مسلمان کو ان سب مصیبتوں سے محفوظ رکھے۔
۸؎یعنی یہ دعا میری مجرب بھی ہے تیر بہدف نسخہ ہے،ہر مسلمان ہمیشہ ہی یہ دعا ہر نماز کے بعد ضرو رایک بار پڑھ لیا کرےان شاءاللّٰهقرض وظلم سے محفوظ رہے گا۔فقیر بفضل رب قدیر اس کا عامل ہے اس دعا کے زیر سایہ ہر بلا و قرض سے محفوظ ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2448