Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2448

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا قُلْتَهٗ أَذْهَبَ اللّٰه هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلٰى قَالَ: " قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ". قَالَ: فَفَعَلْتُ ذٰلِكَ، فَأَذْهَبَ اللّٰهُ هَمِّي، وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رجل: هموم لزمتني وديون يا رسول الله قال: «أفلا أعلمك كلاما إذا قلته أذهب الله همك وقضى عنك دينك؟» قال: قلت: بلى قال: " قل إذا أصبحت وإذا أمسيت: اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وأعوذ بك من العجز والكسل، وأعوذ بك من البخل والجبن، وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال". قال: ففعلت ذلك، فأذهب الله همي، وقضى عني ديني. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه مجھے غم و قرض چمٹ گئے ۱؎فرمایا تو کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھادوں کہ جب تم اسے پڑھ لو تو اللّٰه تمہارے غم مٹادے اور تمہارا قرض اتار دے ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں ضرور،فرمایا روزانہ صبح اور شام کے وقت یہ پڑھ لیا کرو ۳؎الٰہی میں رنج و غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۴؎اور عاجزی و سستی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎اور کنجوسی و بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۶؎اور قرض کے چھاجانے اور لوگوں کے غالب آجانے سے تیری پناہ لیتا ہوں ۷؎فرماتے ہیں میں نے یہ عمل کیا تو اللّٰه نے میرا غم مٹا دیا اور میرا قرض ادا کردیا ۸؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

ا∞؎مرقات نے فرمایا کہ اس عرضی کا مقصود رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے استغاثہ یعنی طلب مدد اور فریاد کرنا ہے یعنی مجھے ایسے بڑے غم و قرض نے گھیر لیا جو کسی طرح دفع نہیں ہوتے،آپ سے فریاد ہے کیوں کہ آپ خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ عظمیٰ ہیں،انہیں آپ کا وسیلہ عظمٰی ہی دور کرسکتا ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ مصیبتوں میں حضور علیہ السلام کی پناہ لینا حضور علیہ السلام سے مدد مانگنا سنت صحابہ ہے شرک نہیں۔
۲
؎یعنی اس دعا کی برکت اور میرے وسیلے اور میری تعلیم کے اثر سے رب تعالٰی تمہارے رنج و قرض سب کچھ دور کردے گا،کام رب ہی کرتا ہے مگر وسیلہ کے ذریعہ سے۔بزرگوں سے حاصل کی ہوئی دعاؤں میں دو تاثیریں ہوتی ہیں:الفاظ کی تاثیر اور ان کی زبان کی تاثیر،تلوار کسی کی سان پر رکھو،تیز کرو پھر اس سے وار کرو۔
۳
؎صبح شام سے مراد یا تو بعد نماز فجر و مغرب کے اوقات میں یا ہمیشہ پڑھنا۔(مرقات)صوفیاء خاص ضرورت پر ہر نماز کے بعد ایک ایک بار یہ دعا پڑھا کرتے ہیں۔
۴
؎ھم وحزنیا تو ہم معنے ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے،کیا فرق ہے؟اس میں بہت گفتگو ہے۔صحیح تر یہ ہے کہ آئندہ مصیبت کے خطرہ کوھمکہتے ہیں اور گزشتہ نازل شدہ مصیبت کی تکلیف کوحزناسی لیے پختہ ارادے کوھمکہا جاتا ہے "وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ"یا تکلیف دہ چیز واقع ہوجانے پر جو صدمہ ہے وہھماور کسی مطلوب کے فوت ہوجانے پر صدمہحزن۔ واللّٰه اعلم!بہرحال یہ دعا بہت جامع ہے۔
۵
؎یعنی نیکی پر قادر نہ ہونے اور قادر ہو کر اس کے کرنے میں بوجھل ہوجانے سے تیری پناہ،عجز و کسل میں یہ ہی فرق ہے،نیکی پر قدرت بھی اللّٰه کی رحمت ہےاور قدرت کے بعد کرلینے کا موقعہ مل جانا یعنی توفیق بھی اس کا کرم۔
۶
؎صدقات واجبہ،صدقات نفلیہ نہ ادا کرنا،سائل کو بھیک کبھی نہ دینا،مہمان نوازی نہ کرنا،حقوق مالیہ ادا نہ کرنا،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا نام پاک سن کر درود شریف نہ پڑھنا وغیرہ بخل ہے اور تبلیغ کی ہمت نہ ہونا،جہاد میں بزدلی آ جانا،رزق کے معاملہ میں اللّٰه پر توکل نہ ہونا،جبنیعنی بزدلی ہے۔مسلمان بھائی سے لڑنے کی ہمت نہ کرنابزدلی نہیں،فضول خرچی سے بچنا بخل نہیں،آج لوگوں نے سخاوت و فضول خرچی یوں ہی بخل و کفایت شعاری،یوں ہی بہادری اور ایذاء رسانی،یوں ہی بزدلی و نرمی دل میں فرق کرنا چھوڑ دیا۔
۷
؎خیال رہے کہ نفس قرض برا نہیں قرض تو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی لیا ہے غلبہ دین برا ہے جس کے ادا کی صورت نظر نہ آئے یا جو مقروض کو ذلیل کردے یا جس سے مقروض جھوٹ بولنے وعدہ خلافی کرنے پر مجبور ہوجائے اسی لیے یہاں غلبہ دین کا ذکر فرمایا قہر رجال میں یا تو قرض خواہ ہوں کا غلبہ یا بادشاہ کا ظلم یا ظالموں کا گھیر لینا مراد ہے اللّٰه تعالٰی ہر مسلمان کو ان سب مصیبتوں سے محفوظ رکھے۔
۸
؎یعنی یہ دعا میری مجرب بھی ہے تیر بہدف نسخہ ہے،ہر مسلمان ہمیشہ ہی یہ دعا ہر نماز کے بعد ضرو رایک بار پڑھ لیا کرےان شاءاللّٰهقرض وظلم سے محفوظ رہے گا۔فقیر بفضل رب قدیر اس کا عامل ہے اس دعا کے زیر سایہ ہر بلا و قرض سے محفوظ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2448