- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2420
باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2420
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوٰى عَلٰى بَعِيرِهٖ خَارِجًا إِلٰى السَّفَرِ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَطَوِّ لَنَا بُعْدَهٗ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالأَهْلِ"، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: "آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا استوى على بعيره خارجا إلى السفر كبر ثلاثا ثم قال: (سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون)اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا وطو لنا بعده اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنظر وسوء المنقلب في المال والأهل"، وإذا رجع قالهن وزاد فيهن: "آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون". رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اونٹ پر سوار ہوجاتے تو تین بار تکبیر کہتے ۱؎پھر یہ فرماتے پاک ہے وہ اللّٰه جس نے اسے ہمارا تابع کر دیا ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۲؎الٰہی ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی پرہیز گاری اور تیرے پسندیدہ عمل کی توفیق مانگتے ہیں ۳؎اے اللّٰه ہم پر اس سفر کو آسان فرمادے اور اس کی درازی سمیٹ لے۴؎اے اللّٰه تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور گھر بار میں والی ہے ۵؎اے اللّٰه میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقتوں سے اور برے انتظار سے اور بری واپسی سے مال اور گھر بار میں ۶؎جب واپس ہوتے تو بھی یہی فرماتے ان کلمات میں سے اور بڑھادیتے ہم لوٹنے والے توبہ کرنے والے رب کے ثنا گو ہیں ۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎چونکہ اونٹ وغیرہ بلند چیز پر سوار ہوتے وقت انسان کو اپنی بلندی نظر آتی ہے اس لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان موقعوں پر رب تعالٰی کی کبریائی بیان فرماتے تھے۔چنانچہ ٹیلہ پہاڑی پر چڑھتے وقت بھی تکبیر کہتے تھے یا اس تعجب پر تکبیر کہتے کہ رب تعالٰی نے ایسے جانور کو ہمارے قبضہ میں کیسے کردیا جب کہ مکھی،مچھر ہمارے قبضہ سے باہر ہیں۔
۲؎یہ قرآن شریف کی آیت ہے،اس میں ہم اپنے عجز،رب تعالٰی کی رحمت کا اقرار کرتے ہیں کہ کہاں ہم جیسے ضعیف النسیان انسان اور کہاں یہ قوی جانور مگر رب تعالٰی کی مہر بانی ہے یہ کہ ہمارے تابع فرمان ہیں،یہ ہماری بہادری نہیں بلکہ رب تعالٰی کی مہربانی ہے،دیکھو ہرن،نیل،گائے بلکہ مکھی وغیرہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آتے حالانکہ وہ اونٹ و ہاتھی سے کہیں کمزور ہیں،پھر اپنے معاد کا بھی ذکر فرمایا کہ ہمارے یہ قبضے قدرتیں رہنے والی نہیں،ہم ایک دن عاجز ہو کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوں گے ہمیں وہ وقت یاد ہے،ہم متکبر نہیں،زندگی کی سواری سے بھی ایک دن اترنا پڑے گا۔
نوٹ: جو کوئی خشکی کی سواری،ر یل،موٹر،ہوائی جہاز،تانگہ وغیرہ پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھ لے توان شاءاللّٰهہر آفت سے محفوظ رہے گا۔
۳؎سفر میں کبھی ساتھیوں سے لڑائی بھی ہوجاتی ہے اور نیک اعمال میں کمی بھی اس لیے رب تعالٰی سے بریعنی بھلائی کی بھی توفیق مانگی اور پرہیزگاری کی بھی۔تقویٰ سفر کا روحانی توشہ ہے،برسے مراد یا تو ساتھیوں سے اچھا سلوک ہے یا رب تعالٰی کی عطا یا نیک اعمال اور تقویٰ سے مراد بدخلقی، لڑائی،جھگڑے اور بدعملیوں سے بچنا۔خیال رہے کہ محبت ورضا ہم معنی ہیں جیسے کہ ارادہ و مشیت ہم معنی ہیں مگر رضا و ارادہ میں بڑا فرق ہے،ما ترضیٰارشاد ہوا نہ کہترید۔
۴؎یعنی سفر میں ہم کو بدنی و روحانی راحتیں عطا فرما اور دراز سفر کو مختصر کردے،جب ر ب چاہے تو طویل راستہ کو چھوٹا کردیتا ہے،فرشتے،جنات ہمارے دور نظر خیال کے لیے،نیز انبیاء و اولیاء کے لیے دور دراز سفر بہت چھوٹے ہوجاتے ہیں،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سفر معراج میں کروڑوں میل آنا جانا طے کیے،اس دعا کی برکت سےان شاءاللّٰهطویل سفر ہلکا بھی ہوجائے گا اور سفر کی تکلیف سے بھی امن رہے گی۔
۵؎کہ میرا بھی تو حافظ ہے اور میرے پیچھے میرے گھر والوں کا والی و ماویٰ ہے۔
۶؎یعنی اس سفر میں نہ تو میں برائی کے ساتھ لوٹوں کہ گھر والے مجھے دیکھ کر گھبرا جائیں اور نہ ہی گھر والے کسی آفت میں مبتلا ہوں کہ میں واپسی پر انہیں دیکھ کر گھبرا جاؤں۔بہت جامع دعا ہے اس میں چوری،یاری،ہلاکت و دیگر ناگہانی آفات سے پناہ مانگ لی گئی۔
۷؎یعنی جب سفر سے گھر کی طرف روانہ ہوتے تب تواللھم انا نسئلكالخ فرماتےاور جب مدینہ منورہ کی بستی دیکھتے توآئبونتائبونالخ فرماتے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گھر پہنچ کر تو سفر ختم ہوتا ہے پھر سفر کی دعا کیوں پڑھتے تھے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2420