Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2420

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوٰى عَلٰى بَعِيرِهٖ خَارِجًا إِلٰى السَّفَرِ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَطَوِّ لَنَا بُعْدَهٗ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالأَهْلِ"، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: "آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا استوى على بعيره خارجا إلى السفر كبر ثلاثا ثم قال: (سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون)اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا وطو لنا بعده اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنظر وسوء المنقلب في المال والأهل"، وإذا رجع قالهن وزاد فيهن: "آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اونٹ پر سوار ہوجاتے تو تین بار تکبیر کہتے ۱؎پھر یہ فرماتے پاک ہے وہ اللّٰه جس نے اسے ہمارا تابع کر دیا ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۲؎الٰہی ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی پرہیز گاری اور تیرے پسندیدہ عمل کی توفیق مانگتے ہیں ۳؎اے اللّٰه ہم پر اس سفر کو آسان فرمادے اور اس کی درازی سمیٹ لے۴؎اے اللّٰه تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور گھر بار میں والی ہے ۵؎اے اللّٰه میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقتوں سے اور برے انتظار سے اور بری واپسی سے مال اور گھر بار میں ۶؎جب واپس ہوتے تو بھی یہی فرماتے ان کلمات میں سے اور بڑھادیتے ہم لوٹنے والے توبہ کرنے والے رب کے ثنا گو ہیں ۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ اونٹ وغیرہ بلند چیز پر سوار ہوتے وقت انسان کو اپنی بلندی نظر آتی ہے اس لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان موقعوں پر رب تعالٰی کی کبریائی بیان فرماتے تھے۔چنانچہ ٹیلہ پہاڑی پر چڑھتے وقت بھی تکبیر کہتے تھے یا اس تعجب پر تکبیر کہتے کہ رب تعالٰی نے ایسے جانور کو ہمارے قبضہ میں کیسے کردیا جب کہ مکھی،مچھر ہمارے قبضہ سے باہر ہیں۔
۲
؎یہ قرآن شریف کی آیت ہے،اس میں ہم اپنے عجز،رب تعالٰی کی رحمت کا اقرار کرتے ہیں کہ کہاں ہم جیسے ضعیف النسیان انسان اور کہاں یہ قوی جانور مگر رب تعالٰی کی مہر بانی ہے یہ کہ ہمارے تابع فرمان ہیں،یہ ہماری بہادری نہیں بلکہ رب تعالٰی کی مہربانی ہے،دیکھو ہرن،نیل،گائے بلکہ مکھی وغیرہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آتے حالانکہ وہ اونٹ و ہاتھی سے کہیں کمزور ہیں،پھر اپنے معاد کا بھی ذکر فرمایا کہ ہمارے یہ قبضے قدرتیں رہنے والی نہیں،ہم ایک دن عاجز ہو کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوں گے ہمیں وہ وقت یاد ہے،ہم متکبر نہیں،زندگی کی سواری سے بھی ایک دن اترنا پڑے گا۔
نوٹ: جو کوئی خشکی کی سواری،ر یل،موٹر،ہوائی جہاز،تانگہ وغیرہ پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھ لے تو
ان شاءاللّٰهہر آفت سے محفوظ رہے گا۔
۳
؎سفر میں کبھی ساتھیوں سے لڑائی بھی ہوجاتی ہے اور نیک اعمال میں کمی بھی اس لیے رب تعالٰی سے بریعنی بھلائی کی بھی توفیق مانگی اور پرہیزگاری کی بھی۔تقویٰ سفر کا روحانی توشہ ہے،برسے مراد یا تو ساتھیوں سے اچھا سلوک ہے یا رب تعالٰی کی عطا یا نیک اعمال اور تقویٰ سے مراد بدخلقی، لڑائی،جھگڑے اور بدعملیوں سے بچنا۔خیال رہے کہ محبت ورضا ہم معنی ہیں جیسے کہ ارادہ و مشیت ہم معنی ہیں مگر رضا و ارادہ میں بڑا فرق ہے،ما ترضیٰارشاد ہوا نہ کہترید۔
۴
؎یعنی سفر میں ہم کو بدنی و روحانی راحتیں عطا فرما اور دراز سفر کو مختصر کردے،جب ر ب چاہے تو طویل راستہ کو چھوٹا کردیتا ہے،فرشتے،جنات ہمارے دور نظر خیال کے لیے،نیز انبیاء و اولیاء کے لیے دور دراز سفر بہت چھوٹے ہوجاتے ہیں،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سفر معراج میں کروڑوں میل آنا جانا طے کیے،اس دعا کی برکت سےان شاءاللّٰهطویل سفر ہلکا بھی ہوجائے گا اور سفر کی تکلیف سے بھی امن رہے گی۔
۵
؎کہ میرا بھی تو حافظ ہے اور میرے پیچھے میرے گھر والوں کا والی و ماویٰ ہے۔
۶
؎یعنی اس سفر میں نہ تو میں برائی کے ساتھ لوٹوں کہ گھر والے مجھے دیکھ کر گھبرا جائیں اور نہ ہی گھر والے کسی آفت میں مبتلا ہوں کہ میں واپسی پر انہیں دیکھ کر گھبرا جاؤں۔بہت جامع دعا ہے اس میں چوری،یاری،ہلاکت و دیگر ناگہانی آفات سے پناہ مانگ لی گئی۔
۷
؎یعنی جب سفر سے گھر کی طرف روانہ ہوتے تب تواللھم انا نسئلكالخ فرماتےاور جب مدینہ منورہ کی بستی دیکھتے توآئبونتائبونالخ فرماتے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گھر پہنچ کر تو سفر ختم ہوتا ہے پھر سفر کی دعا کیوں پڑھتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2420