Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2431

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ فَقَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللّٰه لَهٗ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ اَلْفَ اَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهٗ اَلْفَ اَلْفِ دَرَجَةٍ وَبَنَى لَهٗ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ: «مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ جَامِعٍ يُبَاعُ فِيهِ" بَدَلَ "مَنْ دَخَلَ السُّوقَ

وعن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من دخل السوق فقال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له الف الف حسنة ومحا عنه الف الف سيئة ورفع له الف الف درجة وبنى له بيتا في الجنة ". رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب وفي شرح السنة: «من قال في سوق جامع يباع فيه" بدل "من دخل السوق

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص بازار میں داخل ہونے پر یہ کہہ لے ۱؎اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اکیلا ہے وہ جس کا کوئی ساجھی نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے زندگی اور موت دیتا ہے وہ خود زندہ ہے جو کبھی نہ مرے گا اسی کے قبضہ میں خیر ہے ۲؎اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا تا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند کرتا ہے اور اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۴؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور شرح سنہ میں یوں ہے ۵؎کہ جو بھرے بازار میں جائے جہاں تجارت ہوتی ہے۔(مَنْ دَخَلَ السُّوْقَکے عوض)۶؎

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں بازار کوسوقکہتے ہیں کیونکہ یہسَوقسے بنا بمعنی جانا اور لے جانا،چونکہ لوگ بازار میں خود بھی جاتے ہیں اور اپنے سامان بھی لے جاتے ہیں اس لیے اسےسوقکہا جاتا ہے،بعض نے کہا کہ یہساقکی جمع ہے بمعنی پنڈلی،چونکہ لوگ بازار میں اکثر اپنی پنڈلیوں پر کھڑے ہی ہوتے ہیں بیٹھتے کم ہیں اس لیے اسےسوقکہتے ہیں۔بازار غفلت،شیطان کے تسلط اور اکثر جھوٹ دھوکے کی جگہ ہے اس لیے وہاں جاتے وقت اس دعا کا ثواب بھی زیادہ ہے۔بہتر ہے کہ یہ دعا آہستہ پڑھے تاکہ ریاء سے دور رہے اور اگر اس لیے کچھ آواز سے بھی پڑھ لے کہ دوسرے بھی یہ پڑھ لیں تو مضائقہ نہیں۔
۲
؎اگرچہ شر بھی اللہ تعالٰی ہی کے قبضہ میں ہے مگر چونکہ شر کو رب تعالٰی کی طرف نسبت دینے میں بے ادبی سی ہے اس لیے صرف خیر کا یہاں ذکر کیا،کہنا یہ چاہئے کہ خیر رب تعالٰی کی طرف سے ہے شرمیری طرف سے۔
۳
؎اس دعا کی برکت سےان شاء اللّٰہیہ محض اس مبارک جماعت میں داخل ہو جائے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے "رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰہ"وہ لوگ جنہیں تجارتی کاروبار اللہ کے ذکر سے نہیں روکتا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ شیطان بازار ہی میں اپنے انڈے بچے دیتا ہے وہاں ہی اس کے جھنڈے گڑھتے ہیں،وہاں ہی نوے فی صد گناہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں یہ دعا پڑھنا بہت بہتر ہے،دکاندار حضرات ضرور پڑھ لیا کریں کہ انہیں اکثر وقت وہاں ہی رہنا ہوتا ہے۔آج کل کچہریاں بازاروں سے بدتر ہیں،وہاں بھی یہ دعا ضرور پڑھے۔(ازمرقات مع زیادۃ)
۴
؎اگر دونوں الف کو زبر اور درجہ کو بھی زبر پڑھا جائے تو معنی ہوں گے ہزار ہزار یعنی ہزار ہا نیکیاں،یہ ہی ترجمہ اشعۃ اللمعات نے کیا اور اگر پہلے الف کو زبر اور دوسرے الف کو کسرہ یعنی زیر اور حسنۃ کو زیر ہی پڑھا جائے تو معنی ہوں گے کہ ہزار جگہ ہزار یعنی دس لاکھ سو ہزار ایک لاکھ،دس سو ہزار دس لاکھ۔دوسرے معنی فقیر نے اس لیے اختیار کیے کہ رب تعالٰی کی ر حمت بہت وسیع ہے اور اس کے خزانو ں میں کمی نہیں۔
۵
؎شرح سنہ صاحب مصابیح کی کتاب ہے جیسا کہ دیباچہ میں عرض کیا گیا۔
۶
؎بازار کی جتنی رونق زیادہ اور وہاں جتنا کاروبار زیادہ اتنے ہی وہاں گناہ زیادہ اسی لیے اس قدر دعا کا ثواب زیادہ مرقات نے فرمایا کہقتیبہابن مسلم بادشاہ خراسان یہ حدیث سن کر یہ دعا،پڑھنے کے لیے روزانہ بازار جاتے تھے اور یہ دعا پڑھ کر لوٹ جاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2431