- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2431
باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2431
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ فَقَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللّٰه لَهٗ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ اَلْفَ اَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهٗ اَلْفَ اَلْفِ دَرَجَةٍ وَبَنَى لَهٗ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ: «مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ جَامِعٍ يُبَاعُ فِيهِ" بَدَلَ "مَنْ دَخَلَ السُّوقَ
وعن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من دخل السوق فقال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له الف الف حسنة ومحا عنه الف الف سيئة ورفع له الف الف درجة وبنى له بيتا في الجنة ". رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب وفي شرح السنة: «من قال في سوق جامع يباع فيه" بدل "من دخل السوق
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص بازار میں داخل ہونے پر یہ کہہ لے ۱؎اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اکیلا ہے وہ جس کا کوئی ساجھی نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے زندگی اور موت دیتا ہے وہ خود زندہ ہے جو کبھی نہ مرے گا اسی کے قبضہ میں خیر ہے ۲؎اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا تا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند کرتا ہے اور اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۴؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور شرح سنہ میں یوں ہے ۵؎کہ جو بھرے بازار میں جائے جہاں تجارت ہوتی ہے۔(مَنْ دَخَلَ السُّوْقَکے عوض)۶؎
شرح حدیث
۱∞؎عربی میں بازار کوسوقکہتے ہیں کیونکہ یہسَوقسے بنا بمعنی جانا اور لے جانا،چونکہ لوگ بازار میں خود بھی جاتے ہیں اور اپنے سامان بھی لے جاتے ہیں اس لیے اسےسوقکہا جاتا ہے،بعض نے کہا کہ یہساقکی جمع ہے بمعنی پنڈلی،چونکہ لوگ بازار میں اکثر اپنی پنڈلیوں پر کھڑے ہی ہوتے ہیں بیٹھتے کم ہیں اس لیے اسےسوقکہتے ہیں۔بازار غفلت،شیطان کے تسلط اور اکثر جھوٹ دھوکے کی جگہ ہے اس لیے وہاں جاتے وقت اس دعا کا ثواب بھی زیادہ ہے۔بہتر ہے کہ یہ دعا آہستہ پڑھے تاکہ ریاء سے دور رہے اور اگر اس لیے کچھ آواز سے بھی پڑھ لے کہ دوسرے بھی یہ پڑھ لیں تو مضائقہ نہیں۔
۲؎اگرچہ شر بھی اللہ تعالٰی ہی کے قبضہ میں ہے مگر چونکہ شر کو رب تعالٰی کی طرف نسبت دینے میں بے ادبی سی ہے اس لیے صرف خیر کا یہاں ذکر کیا،کہنا یہ چاہئے کہ خیر رب تعالٰی کی طرف سے ہے شرمیری طرف سے۔
۳؎اس دعا کی برکت سےان شاء اللّٰہیہ محض اس مبارک جماعت میں داخل ہو جائے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے "رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰہ"وہ لوگ جنہیں تجارتی کاروبار اللہ کے ذکر سے نہیں روکتا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ شیطان بازار ہی میں اپنے انڈے بچے دیتا ہے وہاں ہی اس کے جھنڈے گڑھتے ہیں،وہاں ہی نوے فی صد گناہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں یہ دعا پڑھنا بہت بہتر ہے،دکاندار حضرات ضرور پڑھ لیا کریں کہ انہیں اکثر وقت وہاں ہی رہنا ہوتا ہے۔آج کل کچہریاں بازاروں سے بدتر ہیں،وہاں بھی یہ دعا ضرور پڑھے۔(ازمرقات مع زیادۃ)
۴؎اگر دونوں الف کو زبر اور درجہ کو بھی زبر پڑھا جائے تو معنی ہوں گے ہزار ہزار یعنی ہزار ہا نیکیاں،یہ ہی ترجمہ اشعۃ اللمعات نے کیا اور اگر پہلے الف کو زبر اور دوسرے الف کو کسرہ یعنی زیر اور حسنۃ کو زیر ہی پڑھا جائے تو معنی ہوں گے کہ ہزار جگہ ہزار یعنی دس لاکھ سو ہزار ایک لاکھ،دس سو ہزار دس لاکھ۔دوسرے معنی فقیر نے اس لیے اختیار کیے کہ رب تعالٰی کی ر حمت بہت وسیع ہے اور اس کے خزانو ں میں کمی نہیں۔
۵؎شرح سنہ صاحب مصابیح کی کتاب ہے جیسا کہ دیباچہ میں عرض کیا گیا۔
۶؎بازار کی جتنی رونق زیادہ اور وہاں جتنا کاروبار زیادہ اتنے ہی وہاں گناہ زیادہ اسی لیے اس قدر دعا کا ثواب زیادہ مرقات نے فرمایا کہقتیبہابن مسلم بادشاہ خراسان یہ حدیث سن کر یہ دعا،پڑھنے کے لیے روزانہ بازار جاتے تھے اور یہ دعا پڑھ کر لوٹ جاتے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2431