Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2421

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَرْجَسَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الله بن سرجس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سافر يتعوذ من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن سرجس سے فرماتے ہیں جب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سفر کرتے تو ان چیزوں سے پناہ مانگتے تھے سفر کے نقصانات سے ۱؎اور واپسی کی تکالیف سے ۲؎اور بھلائی کے بعد برائی سے ۳؎مظلوم کی بددعا سے ۴؎اور گھر بار و مال میں برائی دیکھنے سے۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎وعثاء و عثٌسے بنا بمعنی نقصان یا وہ مشقت جو رب کے ذکر اور آخرت کی فکر سے روک دے،چونکہ سفر گوسفر یعنی دوزخ کا ٹکڑا ہے اس کے لیے یہ دعا فرماتے۔
۲
؎اس طرح کہ جب گھر لوٹوں تو کوئی نقصان دہ چیز نہ دیکھوں،اسی طرح جب سفر دنیا سے وطن آخرت کی طرف واپس جاؤں تو کوئی مصیبت نہ اٹھاؤں،اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَسَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ
۳
؎کورعمامہ کے پیچ کو کہتے ہیں اورحوراس پیچ کا کھل جانا یعنی زیادتی کے بعد نقصان،اصلاح کے بعد فساد،جمع ہونے کے بعد بکھرنا،جماعت میں ہونے کے بعد الگ ہوجانا،آرام کے بعد تکلیف،بھلائی کے بعد برائی،ثابت قدمی کے بعد بدل جانا ان سب سے تیری پناہ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ"اور فرماتا ہے:"یُكَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّھَارِ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ترقی کے بعد تنزل،توبہ کے بعد گناہ،ذکر کے بعد غفلت،حاضری کے بعد غائب ہوجانا ان سب سے پناہ۔ (لمعات،مرقات مع زیادت)
۴
؎چونکہ سفر میں ساتھیوں سے جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں،خصوصًا عرب میں پانی پر اور کبھی ان جھگڑوں میں ظلم بھی ہوجاتا ہے اس لیے سفر کے موقعوں پر مظلوم کی بددعا سے خصوصیت سے پناہ مانگی گئی،مظلوم کی بددعا اور قبولیت کے درمیان حجاب نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2421