Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2422

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰه التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهٗ شَيْءٌ حَتّٰى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلهٖ ذٰلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن خولة بنت حكيم قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من نزل منزلا فقال: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خولہ بنتِ حکیم سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا،جو کسی منزل پر اترے تو یہ کہہ لے میں اللّٰه کے پورے و کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اس کی ساری مخلوق کی شر سے ۲؎تو اس منزل سے کوچ کرتے وقت تک اسے کوئی چیز نقصان نہ دے گی ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت عثمان ابن مظعون کی بیوی ہیں،نہایت نیک اور عالمہ تھیں مگر آپ سے صرف یہی ایک حدیث منقول ہے۔
۲
؎ان کلمات سے مراد یا تو قرآن کریم ہے یا ساری آسمانی کتب یا اسمائے الہیہ یا رب کا کلام نفسی یا اس کا علم یا اس کے فیصلے۔تام سے مراد ہے نقصان و عیب سے پاک۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ کلمات اللّٰه حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہیں کیونکہ ان کی ہر بات وحی الٰہی ہے،عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللّٰه ہیں،موسیٰ علیہ السلام کلیم اللّٰه ہیں اور ہمارے حضور کلمات اللّٰہ ۔مخلوق سے وہ مخلوق مراد ہے جس سے شر ہوسکے،اس میں اپنا نفس بھی داخل ہے اور چیزیں بھی۔
۳
؎کفار عرب سفر کی منزلوں میں اترتے وقت کہتے تھے کہ ہم اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتے ہیں یعنی جنات کی،اللّٰه کے محبوب نے تو ہم کو اس کے عوض یہ دعا سکھائی۔یہ دعا سفر و حضر میں ہمیشہ ہی صبح شام پڑھا کریں،زہریلی چیزوں سے محفوظ ر ہو گے بہت مجرب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2422