Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2440

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا غزا قال: «اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل» . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب جہاد کرتے تو کہتے الٰہی تو میری قوت بازو ہے،میرا مددگار ہے، تیرے بھروسہ ہی سے دفع کرتا ہوں تیری مدد پر حملہ کرتا ہوں،تیری امید سے جہاد کرتا ہوں ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎احول حولٌسے بنا بمعنی دشمن کے مکر و فریب کو پھیر دینا یا برائی سے اچھائی کی طرف پھر جانا یعنی الٰہی میں دشمن کے مقابل اپنی قوت،فوج، ہتھیاروں کے بھروسہ پر نہیں آیا ہوں،یہ تو فقط اسباب ہیں،بھروسہ تجھ پر ہے تو چاہے تو ابابیل سے فیل مروا دے،کمزور مسلمان سے قوی کفار کو ہلاک کرادے،دو بچوں سے ابوجہل کو ٹھکانے لگادے۔یہ وہ چیز ہے جو کفار کے پاس نہیں اور مسلمان انہی کی برکتوں سے فتح پاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2440