Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2417

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول عند الكرب: «لا إله إلا الله العظيم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض رب العرش الكريم»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سخت تکلیف کے وقت یہ کہتے اللّٰه کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ عظمت والا حلم والا ہے ۱؎اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑے عرش کا رب ہے اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں کا رب اور زمین کا ر ب اور کرم والے عرش کا رب ہے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کربسے مراد وہ سخت تکلیف یا رنج و غم ہے جو دل کو گھیرے۔حلیمکے معنے ہیں عذاب میں جلدی نہ فرمانے والا بلکہ اپنے مجرم کو باز آجانے پربخش دینے والا اور اس کا غم وغیرہ دور کردینے والا یعنی یہ تکلیف ہماری کسی خطا کی وجہ سے ہے،رب تعالٰی حلیم ہے معافی دے گا اور اسے دور فرمادے گا۔
۲
؎کریم یا تو رب کی صفت ہے اور مرفوع ہے یا عرش کی صفت ہے اور مجرور۔خیال رہے کہ یہاں صرف رب تعالٰی کی حمد ہے دعا کا لفظ ایک بھی نہیں مگر چونکہ کریم کی حمد بھی دعا ہے،نیز ذکر اللّٰه سے بلائیں ٹلتی ہیں اس کے لیے اس کا نام دعائے کرب ہے اور اسی کا نام دفع کرب ہے۔(لمعات، نووی)یا یہاں زبان پر حمد ہے دل میں سوال۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2417