Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2433

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهٗ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا كَانَ فِي مَجْلِسِهٖ ذٰلِكَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من جلس مجلسا فكثر فيه لغطه فقال قبل أن يقوم: سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك إلا غفر لهما كان في مجلسه ذلك ". رواه الترمذي والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو کسی جگہ بیٹھے جہاں شور و شغب زیادہ ہو ۱؎تو اٹھنے سے پہلے یہ کہہ لے پاک ہے تو اے اللّٰه اور تیری حمد ہے ۲؎میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۳؎مگر اس کی تمام وہ حرکات معاف کردی جائیں گی جو اس مجلس میں ہوئیں ۴؎(ترمذی،بیہقی،دعوات کبیر)

شرح حدیث

۱∞؎لغطٌسے مراد بے فائدہ گفتگو جس میں وقت ضائع ہو کہ یہ بھی نقصان دہ چیزہے۔بعض نے فرمایا کہ بے ہودہ گفتگو غلط ہے جس میں حق اللّٰہ ضائع ہو۔غرضکہ فریب،جھوٹ،غیبت اس سے خارج ہیں کہ یہ چیزیں حقوق العباد میں سے ہیں بغیر معاف کرائے معاف نہ ہوں گی۔
۲
؎اس دعا کا ماخذ یہ آیت ہوسکتی ہے"وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ
۳
؎یعنی اس اضاعت وقت کے قصور اور تیری نعمت زبان کو غلط استعمال کرنے کی غلطی سے توبہ کرتا ہوں،میں قصور مند بندہ ہوں تو غفور رحیم رب ہے معافی دے دے۔سبحان اللّٰه! کیسی پاکیزہ دعا ہے۔
۴
؎بخشش سے وہ ہی مراد ہے جو ابھی اوپر عرض کیا گیا کہ جیسے مال برباد کرنا گناہ ہے ایسے ہی وقت برباد کرنا بھی گناہ،وقت مال سے زیادہ لائق قدر ہے اسی گناہ کی معافی مانگی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2433