Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2438

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللّٰه وَالتَّكْبِيرِ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ: "اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: إن رجلا قال: يا رسول الله إني أريد أن أسافر فأوصني قال: «عليك بتقوى الله والتكبير على كل شرف"، فلما ولى الرجل قال: "اللهم اطو له البعد وهون عليه السفر". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرمایئے ۱؎فرمایا اللّٰه کا خوف گرہ باندھ لو اور ہر بلندی پر تکبیر کہو ۲؎جب اس شخص نے پیٹھ پھیری تو فرمایا الٰہی اس کے لیے دوری لپیٹ دے ۳؎اور اس پر سفر آسان کر۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎جس پر میں سفر میں عمل کرتا رہوں،وصیت اگرچہ مرتے وقت کے کلام کو کہتے ہیں جس کا تعلق بعد موت سے ہو مگر کبھی تاکید حکم کو بھی وصیت کہہ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"يُوصِيْكُمُ اللّٰه فِي أَوْلَادِكُمْ"اور کسی آخری حکم کو بھی یہاں دونوں معنٰی بن سکتے ہیں یعنی مجھے تاکیدی نصیحت فرمادیں،یا آخری نصیحت فرمادیں کیوں کہ اب میں بارگاھِ عالی سے رخصت ہورہا ہوں نہ معلوم اب حاضری میسر ہو یا نہ ہو۔
۲
؎یعنی ہر جگہ ہر حال میں خوفِ خدا دل میں رکھو کہ یہ تمام نیکیوں اور گناہوں سے بچنے کی اصل ہےاور دورانِ سفر میں جب کسی ٹیلہ یا پہاڑی پر چڑھو تو اللّٰه اکبر کہہ لو،غرض دل و زبان دونوں کا انتظام فرمادیا،چڑھتے وقت تکبیر کہنے کی حکمتیں ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہیں۔
۳
؎اس طرح کہ دراز سفر اسے مختصر معلوم ہو یا واقعی بڑی مسافت اس کے لیے چھوٹی ہوجائے۔کراماتِ اولیاء معجزات انبیاء سے یہ بھی ہے کہ ان کے لیے زمین لپٹ جاتی ہے قرآن کریم فرمارہا ہے کہ حضرت آصف برخیا تختِ بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے شام میں لے آئے کہ گئے بھی لوٹ بھی آئے،قرآن کریم فرماتا ہے:" أَنَا آتِيكَ بِهٖ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ "۔۴؎یہ تعمیم بعد تخصیص ہے یعنی وہ نعمت بھی دے اور ہر طرح اسے آسانی میسر فرما۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2438