Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2446

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنِ النَّبِيِّ صَلّٰى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرٰى خَادِمًا فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَإِذَا اشْتَرٰى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهٖ ولْيَقُلْ مِثْلَ ذٰلِكَ». وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالْخَادِمِ: «ثُمَّ لْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالبَرَكَةِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا تزوج أحدكم امرأة أو اشترى خادما فليقل اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه وإذا اشترى بعيرا فليأخذ بذروة سنامه وليقل مثل ذلك». وفي رواية في المرأة والخادم: «ثم ليأخذ بناصيتها وليدع بالبركة» . رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا غلام خریدے تو کہہ لے ۱؎الٰہی میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس پر تو نے اسے پیدا کیا اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی شر سے اور اس کی شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا ۲؎اور جب اونٹ خریدے تو اس کا کوہان پکڑ کر اس طرح کہہ لے ۳؎اور ایک روایت میں عورت و خادم کے متعلق ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور دعائے برکت کرے ۴؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎بیوی یا لونڈی یا غلام کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہے،سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ رکھ کر بھی پڑھ سکتا ہے۔(مرقات)
۲
؎عمومًا ہر انسان فطری طور پر برائی کی طرف مائل ہے،بھلائی رب تعالٰی کے فضل سے نصیب ہوتی ہے۔جبلتھاسے یہ ہی طبعی میلان مراد ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے اوریہاں فرمایا گیا کہ شر پر پیدا ہوتا ہے کیوں کہ وہاں پیدائشی حالت کا ذکر ہے کہ بچہ اس عہد و پیمان پر پیدا ہوتا ہے جو میثاق کے دن رب تعالٰی سے کیے گئے تھے"اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوۡا بَلٰی"اور یہاں اس کے میلان طبع کا ذکر ہے خود ہمارا اپنا یہ میلان ہے اسی لیے ہر خطبہ کے اول سرکار پڑھا کرتے تھے "و نعوذ بِاللّٰهِ من شرور انفسنا" رب تعالٰی شر سے بچائے۔
۳
؎گائے بھینس بکری وغیرہ کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پڑھے۔
۴
؎حصن حصین میں ہے کہ بیوی کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر گزشتہ مذکورہ دعا بھی پڑھے اور یہ دعا ئے تسخیر بھی کرے،یہ عمل بہت ہی مجرب ہےاور بہت مفید ہے،اس دعا کی برکت سے گھر میں اتفاق رہتا ہے،بیوی ہر طرح خاوند کی خیر خواہ اور مطیع رہتی ہے، جانبین میں محبت قائم رہتی ہے،نبھاؤ بہت اچھا ہوتا ہے،زندگی بہت بہتر گزرتی ہے،دونوں کو دین پر استقامت میسر ہوتی ہے۔
۵
؎اس کا پہلا جزء ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،ابولیلے موصلی،حاکم نےاور اس کا دوسرا جزء ابوداؤد،نسائی،ابولیلےٰ نے بھی روایت کیا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2446