Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2443

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهٖ فَقَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ يُقَالُ لَهٗ حِينَئِذٍ هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ فَيَتَنَحّٰى لَهُ الشَّيْطَانُ وَيَقُولُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وروى التِّرْمِذِيّ إِلى قَوْله: «الشَّيْطَان»

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا خرج الرجل من بيته فقال: بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله يقال له حينئذ هديت وكفيت ووقيت فيتنحى له الشيطان ويقول شيطان آخر: كيف لك برجل قد هدي وكفي ووقي ". رواه أبو داود وروى الترمذي إلى قوله: «الشيطان»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلے ۱؎تو کہہ لے اللّٰه کے نام سے میں نے اللّٰه پر بھروسہ کیا اللّٰه کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت ۲؎تب اس سے کہا جاتا ہے تجھے ہدایت و کفایت دی گئی اور تو محفوظ کردیا گیا ۳؎پھر شیطان دور بھاگ جاتا ہے اور اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے تجھے اس شخص سے کیا تعلق ہے جسے ہدایت و کفایت دی گئی اور جو محفوظ کیا گیا۴؎(ابوداؤد)اور ترمذی نےلہ الشیطانتک

شرح حدیث

۱∞؎گھر سے مراد رہنے کی جگہ ہے خواہ یہی گھر ہو جس میں بال بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یا مسجد کا حجرہ،خانقاہ وغیرہ جہاں صوفیاء، طلباء اور مشائخ رہتے ہیں۔غرضکہ ہر شخص اپنے ٹھکانے سے نکلتے وقت یہ پڑھ لیا کرے۔
۲
؎یعنی اللّٰه کے نام سے نکلتا اور اپنے کو اللّٰه کے سپرد کرتا ہوں،میں کمزور ہوں وہ قوی ہے،اس کے بغیر نہ کسی میں طاقت ہے نہ قوت۔∞حول وقوت کے بہت نفیس فرق پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔گناہ سے بچنے کی طاقت حول ہے،نیکی کرنے کی طاقت قوت ہے۔دنیاکے جنجال سے بچنے کی طاقت حول ہے،رب ذوالجلال تک پہنچنے کی طاقت قوت ہے ،اچھے کام کرنے کی طاقت حول ہے ا ور مقبول کام کرنے کی طاقت قوت۔خیال رہے ہر مقبول اچھا ہے ہر اچھا مقبول نہیں مردودیت سے پہلے شیطان کے سجدے اچھے تو تھے مگر مقبول نہ تھے۔
۳
؎یعنی اس دعا کے پڑھنے پر غیبی فرشتہ اس سے خطاب کرکے کہتا ہے کہ تو نے بسم اللّٰه کی برکت سے ہدایت پائی اور تو کل علی اللّٰه کے وسیلہ سے کفایت اورلاحولکے واسطہ سے حفاظت،تین چیزوں پر تین نعمتیں ملیں۔خیال رہے کہ اگرچہ ہم فرشتہ کا یہ کلام سنتے نہیں مگر جب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی معرفت ہم تک یہ کلام پہنچ گیا تو اس کا کہنا عبث نہ ہوا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہم اس پر فرشتہ کا یہ کلام سنتے نہیں تو اس کا کہنا بیکار ہے،نیز فرشتہ کے اس کلام کا عملی طور پر ظہور بھی ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو یہ تینوں نعمتیں مل جاتی ہیں۔
۴
؎یعنی فرشتے کے اس کہہ دینے پر اس کا قرین شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اس سے بھاگ جاتا ہے،پھر جب شام شیاطین کا سردار ابلیس اس سے دن بھر کے کارکردگی کا امتحان لیتا ہے تو یہ قریں اس بندے کی دعا کا ذکر کرکے افسوس کرتا ہے کہ میں آج اسے بہکا نہ سکا تب ابلیس اس کی تسلی کے لیے یہ کہتا ہے کہ تجھ پر کوئی میرا عتاب نہیں تو معذور تھا وہ بندہ فرشتہ کی امن میں آچکا تھا اس کی اور شرحیں بھی ہوسکتی ہیں مگر یہ شرح قوی ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ فرشتہ کی امان میں آجانا امن و امان کا ذریعہ ہے،پھر جو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی امان میں آجائے اس کا کیا کہنا ۔دوسرے یہ کہ ابلیس فرشتوں اور ان کی امان و حفاظت کو دیکھتا ہے۔بدر میں ابلیس نے امدادی فرشتوں کو دیکھا تھا اور کہا تھا"اِنِّیۡۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ"۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کوئی ناری اور نوری مخلوق چھپی ہوئی نہیں،حضور علیہ السلام فرشتوں،شیاطین کو ملاحظہ بھی فرماتے ہیں اور ان کے کلام بھی سنتے ہیں،پھر ہم خاکی مخلوق حضور علیہ السلام سے کیسے چھپ سکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2443