Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2435

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهٖ فَلَا يَدَعُهَا حَتّٰى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ: «أَسْتَوْدِعُ اللّٰه دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ» وَفِي رِوَايَةٍ: "وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا لَمْ يُذْكَرْ "وآخِرَ عَمَلِكَ".

وعن ابن عمر قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا ودع رجلا أخذ بيده فلا يدعها حتى يكون الرجل هو يدع يد النبي صلى الله عليه وسلم ويقول: «أستودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» وفي رواية: "وخواتيم عملك"، رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه، وفي روايتهما لم يذكر "وآخر عملك".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی شخص کو وداع فرماتے ۱؎تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے خود اسے نہ چھوڑاتے حتی کہ وہ شخص ہی حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ہاتھ چھوڑ دیتا ۲؎اور فرماتے میں تیرا دین تیری امانت اور تیرا آخری عمل اللّٰه کے سپرد کرتا ہوں۳؎اور ایک روایت میں ہے خاتمہ کا عمل(ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ) ان دونوں کی روایات میںآخر عملكکا ذکر نہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎صحابہ کرام سفر کو جاتے وقت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اس بارگاہ عالی سے وداع ہوتے تھے اس وقت کا یہاں ذکر ہورہا ہے،اب بھی زائرین مدینہ منورہ سے چلتے وقت آخری سلام کے لیے روضہ انور پر حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں "الوداع الوداع یارسول اللّٰه الفراق الفراق یا حبیب اللّٰہ"ہم نے ایک وداعیہ قصیدہ عرض کیا تھا جس کے کچھ شعر یہ ہیں۔شعر
دور سے آئے تھے پردیسی غلام
عرض کرنے کو غلامانہ سلام
آستانہ سے وداع ہوتے ہیں اب
یہ فرماؤ کہ بلواؤ گے کب
چشم رحمت سے نہ تم کریو جدا
رکھیو اپنے سایہ میں ہم کو سدا
اس وقت جو دل کا حال ہوتا ہے وہ وداع ہونے والا ہی جانتا ہے۔شعر
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینے سے
روضہ اچھا زائر اچھے،اچھی راتیں،اچھے دن
سب کچھ اچھا ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں
۲
؎یہ حضور کی بندہ نوازی اور شان کریمانہ ہے کہ غلاموں سے خود ہاتھ نہیں چھوڑاتے،اب بھی وہ ہم گنہگاروں کو خود نہیں چھوڑتے،اللّٰه تعالٰی ان کے قدموں سے وابستگی عطا کرے۔
۳
؎یعنی خدا تیرے دین و ایمان و خاتمہ کی حفاظت کرے،سب کچھ اس کے سپرد ہے۔امانت سے مراد یا تو اعمال شرعیہ ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"الخ یا مسافروں کے آپس کے اخلاق و مالی معاملات،چونکہ سفر میں کبھی آپس میں تلخی ترشی بھی ہوجاتی ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔اس دعا میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ اے مدینہ میں میرے پاس رہنے والے اب تک تو تو میرے سایہ میں تھا کہ ہر مسئلہ مجھ سے پوچھ لیتا تھا ہر مشکل مجھ سے حل کرلیتا تھا اب تو مجھ سے دور ہورہا ہے کہ ہر حاجت میں مجھ سے پوچھ نہ سکے گا تو تیرا ہر کام خدا کے سپر دہے۔ کیسی پیاری دعا ہے اورکیسی مبارک وداع! آخر عمل سے مراد وقت موت ہے یعنی اگر اس سفر میں تجھے موت آئے تو ایمان پر آئے،تیری زندگی و موت رب کے حوالہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2435